منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں15 روپے فی لیٹر تک اضافے کا امکان

datetime 30  جنوری‬‮  2022 |

اسلام آباد (این این آئی)پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں (آج) پیر31 جنوری سے اگلے 15 روز کیلئے 5 سے 15 روپے تک فی لیٹر اضافے کا امکان ہے۔پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ عالمی سطح پر تیل کی قمیت میں اضافہ اور اضافی پیٹرولیم لیوی کا نفاذ ہے۔باخبر ذرائع نے کہا کہ موجودہ ٹیکس شرح، امپورٹ پیرٹی پرائس اور شرح تبادلہ کی بنیاد پر پیٹرول کی

قیمت میں 5 روپے 85 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 10 روپے 70 پیسے اضافہ ہوسکتا ہے، اسی طرح مٹی کا تیل 10 روپے اور لائٹ ڈیزل آئل 9 روپے فی لیٹر مہنگا ہوسکتا ہے۔آئی ایم ایف سے کیے گئے وعدے کے مطابق مزید 4 روپے اضافے کے ساتھ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 14 روپے 70 پیسے اور پیٹرول کی قیمت میں 9 روپے 85 پیسے اضافہ ہوسکتا ہے تاہم ایک عہدیدار نے کہا کہ حکومت عوام کی تنقید سے بچنے اور عوام پر سے مہنگائی کا دباؤ کم کرنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات پر عائد جنرل سیلز ٹیکس میں کمی کر سکتی ہے۔اس وقت فی لیٹر پیٹرول پر 2 روپے 9 پیسے (2.5 فیصد)، ہائی اسپیڈ ڈیزل پر 4 روپے 50 پیسے (5.44 فیصد)، مٹی کے تیل پر 5 روپے 26 پیسے (8.30 فیصد) اور لائٹ ڈیزل آئل پر 2 روپے 80 پیسے (2.7 فیصد) ٹیکس عائد ہے۔عہدیدار کے مطابق حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کو قابو کرنے کے لیے مکمل طور پر یا جزوی طور پر پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر جی ایس ٹی چھوڑ دے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس اختیار ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات پر 4 روپے فی لیٹر پیٹرولیم لیوی عائد کرنے میں کچھ تاخیر کرے مگر اس کا امکان بہت کم ہے، کیونکہ عالمی مالیاتی فنڈ کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس 2 فروری کو شیڈول ہے جس میں پاکستان کے 6 ارب ڈالر کے قرض پروگرام کی بحالی سے متعلق غور کیا جائے گا۔حکومت پروگرام بحالی کے خوش اسلوبی سے چلنے والے اس عمل کو متاثر نہیں کرنا چاہے گی جس کے تحت مشکلات کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ کی منظوری سمیت ا?ئی ایم ایف کے مطلوبہ پیشگی تمام اقدامات پر عمل درآمد کیا گیا ہے۔حکومت، آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے حصے کے طور پر حالیہ مہینوں میں متبادل پندرہ روزہ مدت کی بنیاد پر پیٹرولیم لیوی اور جی ایس ٹی میں اضافہ کر رہی ہے تاہم 15 جنوری کو بھی اہم مصنوعات پر جی ایس ٹی کو کچھ کم کر دیا تھا۔حکومت کے آئی ایم ایف کے ساتھ جاری مذاکرات کے تحت پیٹرولیم لیوی کو زیادہ سے زیادہ 30 روپے فی لیٹر تک لے جانے کے وعدے کے ساتھ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو لیوی میں 4 روپے کا اضافہ ہوتا ہے۔قیمت کے اتار چڑھاؤ کے لحاظ سے جی ایس ٹی ایڈجسٹمنٹ ہر مہینے کی 15 تاریخ کو ہو رہی ہے، اس وقت حکومت پیٹرول پر تقریباً 32 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر تقریباً 28 روپے فی لیٹر ٹیکس وصول کر رہی ہے۔پیٹرول کی موجودہ ایکس ڈپو قیمت 147 روپے 83 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قمیت 144 روپے 62 پیسے فی لیٹر ہے۔پیٹرول کا زیادہ استعمال نجی ٹرانسپورٹ جیسے کاروں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں کے لیے کیا جاتا ہے جس کا متوسط اور نچلے متوسط طبقات سے تعلق رکھنے والے

افراد پر براہ راست اثر پڑھتا ہے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں اضافہ مہنگائی کو بڑھانے کا باعث بنتا ہے کیونکہ اس کا زیادہ استعمال ہیوی ٹرانسپورٹ جیسے ٹرین اور ایگری کلچر انجنوں، ٹرکس، بسوں، ٹریکٹرز، ٹیوب ویلز اور تھریشر میں کیا جاتا ہے۔لائٹ ڈیزل آئل کی موجودہ ایکس ڈپو قیمت 114 روپے 54 پیسے اور مٹی کے تیل کی قیمت 116 روپے 48 پیسے فی لیٹر ہے، لائٹ ڈیزل کا استعمال فلور ملوں اور کچھ پاور پلانٹس کی جانب سے کیا جاتا ہے ،مٹی کے تیل کا زیادہ تر استعمال پیٹرول میں ملاوٹ کرنے اور دور دراز علاقوں میں روشنی کے لیے کیا جاتا ہے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…