پیر‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس پر عملدرآمد روک دیا

datetime 23  اگست‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)سپریم کورٹ نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملہ پر  جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس پر عملدرآمد روک دیا ہے۔ معاملہ کی سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ نے سوال اٹھایا کہ کیا از خود نوٹس چیف جسٹس آف پاکستان  کے علاوہ بھی کوئی جج لے سکتا ہے اس معاملے کو دیکھیں گے؟ از خود نوٹس لینے

کے اختیار کے تعین کیلئے اصل شراکت داروں کو سننا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل آف پاکستان ،صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن  اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل معاملے پر عدالت کی  معاونت کریں۔ عدالت عظمی نے اٹارنی جنرل آف پاکستان ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن  اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے  آئندہ سماعت پر معاونت کیلئے طلب کر لیا۔ پیر کو قا ئم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے  از خود نوٹس لینے کے اختیار کے تعین سے متعلق معاملہ پر سماعت کی۔ دوران سماعت قائم مقام چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ صحافیوں کا کیس حساس ہے خوشی ہوئی کہ انہوں نے  رجوع کیا،اس بات پر افسوس ہے کہ صحافیوں نے عدلیہ پر بطور ادارہ بھروسہ نہیں کیا،سپریم کورٹ رجسٹرار  آفس نے قائمقام چیف جسٹس کو معاملے پر تحریری طور پر آگاہ کیا ، رجسٹرار آفس نے بتایا کہ جو انداز  اختیار ہوا وہ عدالتی طریقہ کار کے

مطابق نہیں ،عدالت میں کیس دائر ہونے اور مقرر کرنے کا باقاعدہ طریقہ کار ہے ۔  دوران سماعت صدر سپریم کورٹ بار  لطیف آفریدی نے سوال اٹھایا کہ تاثر ہے کہ عدلیہ میں تقسیم ہے۔ جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے لطیف آفریدی کو مخاطب کرتے ہو ئے  ریمارکس دیے کہ عدلیہ میں کوئی تقسیم نہیں، ججز کی مختلف نکات پر رائے مختلف ضرور ہوتی ہے

،اپکی آنکھوں کی ٹھنڈک کیلئے ہم ایک ساتھ بیٹھ جائیں گے۔ عدالت عظمی نے صحافیوں کو ہراساں کرنے کے معاملہ پر  جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے لیے گئے از خود نوٹس پر عملدرآمد روکتے ہوئے قرار دیا ہے کہ سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے صحافیوں کی درخواست پر ازخودنوٹس لیا تھا، دو رکنی بینچ نے وفاقی اداروں اور سرکاری

وکلا کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مذکورہ معاملہ 26 اگست 2021 ء   کو سماعت کیلئے  مقرر کرنے کا حکم دیا تھا ،کیا از خود نوٹس چیف جسٹس آف پاکستان  کے علاوہ بھی کوئی جج لے سکتا ہے اس معاملے کو دیکھیں گے۔ عدالت عظمی نے قرار دیا ہے کہ بینچ زیرالتوائ مقدمہ میں کسی نقطے پر ازخودنوٹس لے سکتا ہے، بنچز عمومی طور

پر چیف جسٹس کو ازخودنوٹس کی سفارش کرتے ہیں، موجودہ صورتحال میں کوئی مقدمہ زیر التوائ نہیں تھا، دو رکنی بینچ نے براہ راست درخواست وصول کرکے نوٹس لیا، بینچ تشکیل دینا چیف جسٹس  کا اختیار ہے،عدالت از خود نوٹس  اور مکمل انصاف کا اختیار سسٹم کے تحت استعمال کرتی ہے،ماضی میں بھی کچھ مقدمات پر معمول سے ہٹ کر ازخودنوٹس

ہوئے،چیف جسٹس کے علاوہ بینچ کی جانب سے از خود نوٹس کیلئے معاملہ تجویز کرنے کی روایت موجود ہے،کیا از خود نوٹس چیف جسٹس آف پاکستان  کے علاوہ بھی کوئی جج لے سکتا ہے اس معاملے کو دیکھیں گے، از خود نوٹس لینے کے اختیار کے تعین کیلئے اصل شراکت داروں کو سننا چاہتے ہیں،اٹارنی جنرل آف پاکستان ،صدر سپریم کورٹ بار

ایسوسی ایشن  اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل معاملے پر عدالت کی  معاونت کریں۔ عدالت عظمی نے اٹارنی جنرل آف پاکستان ، صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن  اور وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل کو نوٹس جاری کر کے   آئندہ سماعت پر معاونت کیلئے طلب کر تے ہوئے  معاملہ پر سماعت 25 اگست 2021 ئ تک ملتوی کر دی۔ سپریم کورٹ نے  قرار دیا ہے کہ صحافیوں کے مسائل کا اس کاروائی میں جائزہ نہیں لیں گے ،صحافیوں کی  درخواست پر شفاف انداز میں کارروائی چاہتے ہیں،ایسی کارروائی نہیں چاہتے جو کسی فریق کیلئے سرپرائز ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن (آخری حصہ)


ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…