ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا معلوم نہیں،تمام معاملات میں گڑبڑ ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

datetime 5  مئی‬‮  2021 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے کورونا وائرس از خونوٹس کیس کی سماعت کے دوران این ڈی ایم اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ این ڈی ایم اے کے تمام معاملات میں گڑ بڑ ہے،چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے خریداری کیوں کی گئی،کیا چائنہ میں پاکستانی

سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا کچھ معلوم نہیں۔کیس کی سماعت چیف جسٹس کو سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع چیئرمین این ڈی ایم اے، سی ای او ڈریپ کے علاوہ سرکاری لیگل ٹیم عدالت کے روبرو پیش ہوئی۔ ڈریپ حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں کورونا سے متعلق کسی بھی دوائی کی قلت نہیں،ایکٹمرا انجیکشن کے علاوہ کئی ادویات کا کئی ماہ کا سٹاک موجود ہے،وینٹی لیٹر سمیت کئی آلات ملک میں تیار ہو رہے ہیں۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈریپ اور این ڈی ایم اے کی رپورٹس جمع کرا دی گئی ہیں، 30 اپریل کو حکومت نے غیر رجسٹرڈ ادویات کی درآمد کا این او سی جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ کوغیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑ بڑ ہیں،الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی،فیکٹری کیلئے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی،چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی،چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟کیا چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی خریداری کیلئے استعمال ہوتی ہے؟چارٹرڈ جہاز بھی ایمبیسی کے ذریعے ہی کروایا گیا،کیا چائنہ

میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا نہیں معلوم،ہر چیز میں این ڈی ایم اے کا ذکر ہے، چار پانچ مرتبہ آرڈر دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں،کیا کوئی تحقیقات کی گئی ہیں کہ ادویات آخر کیوں منگوائی جا رہی

ہیں،غیر رجسٹرڈ آلات اور ادویات کو امپورٹ کی اجازت کیوں دی ہے،حکومت کو کیسے معلوم ہوگا کہ کونسی چیز منگوائی جا رہی ہے،کورونا سے نمٹنے کے لیے طبی آلات ہی دستیابی کی کیا صورتحال ہے،پاکستان سٹیل مل سے آکسیجن کی بڑی مقدار مل سکتی ہے،قرنطینہ سینٹر پر کروڑوں روپے خرچ کردییے گئے،سب کو معلوم ہے حاجی

کیمپ قرنطینہ سینٹر کا کیا بنا،حاجی کیمپ پر کروڑوں روپے لگا دیئے گئے نہ پانی ہے وہاں نہ ہی رنگ کیا گیا،کیا چیئرمین این ڈی ایم اے نے قرنطینہ سینٹر کا دورہ کیا ہے؟ہمیں نہیں معلوم انہوں نے چارج کب لیا،چئرمین این ڈی ایم اے نے ذمہ لیا ہے تو قرنطینہ سینٹرز کا کل دورہ بھی کرنا چاہیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسٹیل مل کا

آکسیجن پلانٹ کم و بیش 40 سال پرانا ہے،آکسیجن پلانٹ فعال کرنے میں ایک ارب روپے کی لاگت آئے گی،عدالت کو آکسیجن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ فراہم کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پرکے پی حکومت کی درخواست پر قرار دیا کہ وزارت صنعت و پیداوار دو دن میں آکسیجن سلنڈر کی قیمت کا تعین کرنی کے ساتھ ساتھ

آکسیجن سلنڈر کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کرے،عدالت عظمیٰ کی طرف سے اپنے حکم میں چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام قرنطینہ سینٹرز کا وزٹ کرنے سمیت ان سے قرنطینہ سینٹرز کی حالت بابت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…