چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا معلوم نہیں،تمام معاملات میں گڑبڑ ہے،چیف جسٹس کے ریمارکس

  بدھ‬‮ 5 مئی‬‮‬‮ 2021  |  20:08

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس آف پاکستان نے کورونا وائرس از خونوٹس کیس کی سماعت کے دوران این ڈی ایم اے کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ این ڈی ایم اے کے تمام معاملات میں گڑ بڑ ہے،چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے خریداری کیوں کی گئی،کیا چائنہ میں پاکستانیسفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا کچھ معلوم نہیں۔کیس کی سماعت چیف جسٹس کو سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اس موقع چیئرمین این ڈی ایم اے، سی


ای او ڈریپ کے علاوہ سرکاری لیگل ٹیم عدالت کے روبرو پیش ہوئی۔ ڈریپ حکام کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ ملک میں کورونا سے متعلق کسی بھی دوائی کی قلت نہیں،ایکٹمرا انجیکشن کے علاوہ کئی ادویات کا کئی ماہ کا سٹاک موجود ہے،وینٹی لیٹر سمیت کئی آلات ملک میں تیار ہو رہے ہیں۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ڈریپ اور این ڈی ایم اے کی رپورٹس جمع کرا دی گئی ہیں، 30 اپریل کو حکومت نے غیر رجسٹرڈ ادویات کی درآمد کا این او سی جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ کوغیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دئیے کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑ بڑ ہیں،الحفیظ نامی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی،فیکٹری کیلئے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی،چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی،چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟کیا چائنہ میں پاکستانی ایمبیسی خریداری کیلئے استعمال ہوتی ہے؟چارٹرڈ جہاز بھی ایمبیسی کے ذریعے ہی کروایا گیا،کیا چائنہمیں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ کیش کس کو دیا گیا کس نے وصول کیا نہیں معلوم،ہر چیز میں این ڈی ایم اے کا ذکر ہے، چار پانچ مرتبہ آرڈر دیا تو کچھ دستاویزات دی گئیں عدالت میں پیش کی گئی دستاویزات کا بھی معلوم نہیں یہ کیا ہیں،کیا کوئی تحقیقات کی گئی ہیں کہ ادویات آخر کیوں منگوائی جا رہیہیں،غیر رجسٹرڈ آلات اور ادویات کو امپورٹ کی اجازت کیوں دی ہے،حکومت کو کیسے معلوم ہوگا کہ کونسی چیز منگوائی جا رہی ہے،کورونا سے نمٹنے کے لیے طبی آلات ہی دستیابی کی کیا صورتحال ہے،پاکستان سٹیل مل سے آکسیجن کی بڑی مقدار مل سکتی ہے،قرنطینہ سینٹر پر کروڑوں روپے خرچ کردییے گئے،سب کو معلوم ہے حاجیکیمپ قرنطینہ سینٹر کا کیا بنا،حاجی کیمپ پر کروڑوں روپے لگا دیئے گئے نہ پانی ہے وہاں نہ ہی رنگ کیا گیا،کیا چیئرمین این ڈی ایم اے نے قرنطینہ سینٹر کا دورہ کیا ہے؟ہمیں نہیں معلوم انہوں نے چارج کب لیا،چئرمین این ڈی ایم اے نے ذمہ لیا ہے تو قرنطینہ سینٹرز کا کل دورہ بھی کرنا چاہیے۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسٹیل مل کاآکسیجن پلانٹ کم و بیش 40 سال پرانا ہے،آکسیجن پلانٹ فعال کرنے میں ایک ارب روپے کی لاگت آئے گی،عدالت کو آکسیجن کے حوالے سے تفصیلی رپورٹ فراہم کریں گے۔عدالت عظمیٰ نے اس موقع پرکے پی حکومت کی درخواست پر قرار دیا کہ وزارت صنعت و پیداوار دو دن میں آکسیجن سلنڈر کی قیمت کا تعین کرنی کے ساتھ ساتھآکسیجن سلنڈر کی قیمت کے تعین کا طریقہ کار بھی وضع کرے،عدالت عظمیٰ کی طرف سے اپنے حکم میں چیئرمین این ڈی ایم اے کو تمام قرنطینہ سینٹرز کا وزٹ کرنے سمیت ان سے قرنطینہ سینٹرز کی حالت بابت رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ایک ماہ تک کے لئے ملتوی کر دی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎

خواجہ خورشید انور پاکستان کے سب سے بڑے موسیقار تھے‘ پاکستانی موسیقی میں ایک ایسا دور بھی آیا تھا جسے ’’خواجہ کا وقت‘‘ کہا جاتا تھا‘ وہ دھن نہیں بناتے تھے دل کی دھڑکن بناتے تھے اورجب یہ دھڑکنیں دھڑکتی تھیں تو ان کی آواز روح تک جاتی تھی‘ خواجہ صاحب نے 1958ء میں جھومر کے نام سے فلم شروع ....مزید پڑھئے‎