ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران ججزکے درمیان شدیدتلخ کلامی ، ایک جج ناراض ہو کر چلے گئے

datetime 22  اپریل‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرِثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران جسٹس مقبول باقر ناراض ہو کر کمرہ عدالت سے چلے گئے۔دورانِ سماعت جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ میں 50 بار کہہ چکا ہوں کہ کیس جلد ختم کریں، ہم دوسری

سائیڈ کو بھی وقت کم ہونے کا کہہ چکے ہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب آپ دلائل جاری رکھیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی کہ سینئر کا احترام نہیں؟جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمن کیلئے وقت مقرر کریں یا دلائل پورے کرنے دیں، بار بار وکیل کو ٹوکتے رہے تو میں اٹھ کر چلا جائوں گا۔جسٹس مقبول باقر نے جواب دیا کہ اٹھ کر تو میں بھی جا سکتا ہوں۔حکومتی وکیل نے کہا کہ مناسب ہو گا کہ عدالت 10 منٹ کا وقفہ کر لے۔جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ10 منٹ کے وقفے سے کیا ہوگا؟ اور وہ اٹھ کر کمرہ عدالت سے چلے گئے۔دریں اثنا سماعت کے دوران دلائل دیتے ہوئے جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ ایف بی آر کا معاملہ میری اہلیہ اور ادارے کے درمیان ہے، حکومت صرف کیس لٹکانے کی کوشش کررہی ہے، حکومت چاہتی ہے جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ تک کیس لٹکایا جائے۔ وفاقی حکومت نے کوئی نظرثانی درخواست دائرنہیں کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…