اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

ایک ارب ڈالر کہیں پر دکھا دیں، 90 فیصد آپ رکھ لیں، 10 فیصد مجھے دے دیں، سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹے حسین نواز نے حکومت کو بڑی پیشکش کر دی

datetime 25  جنوری‬‮  2021 |

لندن (مانیٹرنگ +این این آئی)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے حکومت کو بڑی پیشکش کر دی ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق ان کا کہنا ہے کہ میرے والد پرا یک ارب ڈالر کا الزام ڈرامے، جھوٹ اور پروپیگنڈے کا حصہ ہے۔انہوں نے حکومت کو پیشکش کرتے ہوئے کہا کہ آپ ایک ارب ڈالر

کہیں پر دکھا دیں، آپ نوے فیصد رکھ لیں اور دس فیصد مجھے دے دیں۔ اس موقع پر انہوں نے بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر منتخب وزیراعظم کو نااہل کیا گیا، ملک کو اس ڈرامے نے نقصان پہنچایا اور اس ڈرامے کی وجہ سے ریاست پاکستان کو چھ کروڑ ڈالر دینا پڑے۔اس سے قبل سابق وزیراعظم نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز کا کہنا تھا کہ لندن کی عدالت نے نواز شریف اور فیملی کو کلین چٹ دے دی ہے۔اپنے بیان میں حسین نواز نے کہا کہ ثالثی عدالت کے جج سر انتھونی ایونز کا فیصلہ حقائق جاننے کے لیے پڑھنا ضروری ہے۔انہوں نے کہاتھا کہ جج نے فیصلے میں لکھا کہ نواز شریف یا ان کے خاندان کے افراد کے خلاف کوئی چیز سامنے نہیں آسکی۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادے نے کہا کہ جج انتھونی ایونز کے یہ ریمارکس شریف خاندان کیلئے کلین چٹ ہیں۔اْنہوں نے کہاکہ اڈ شیٹ نے سراغ رساں ایجنسی میٹرکس کی خدمات نواز شریف کے اثاثوں کی تلاش کے لئے حاصل کی تھیں۔حسین نواز نے کہاکہ ہمارے مخالفین جب بھی کسی غیرجانبدار فورم پر گئے، انھیں منہ کی کھانی پڑی۔انہوں نے کہاکہ براڈ شیٹ نیقومی احتساب بیورو (نیب) کے بے بنیاد دعووں کی بنیاد پر 20 فیصد حصہ وصول کرلیا، سزا ٹیکس گذاروں کو ملی۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادے کا کہنا تھاکہ جلسوں میں بڑے دعوے کرنے والوں کو

چیلنج کرتا ہوں کہ ثبوت پیش کریں۔انہوں نے کہاکہ اسلام آباد میں پروپیگنڈے اور جھوٹ کا کارخانہ لگا ہوا ہے، ایک ارب ڈالر منتقل کرنے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں۔حسین نواز نے کہاکہ فارن فنڈنگ کیس میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف الیکشن کمیشن کا ایکشن نہ لینا سمجھ سے بالاتر ہے۔اْنہوں نے کہاکہ کوششوں کے باوجود

پاکستان سے باہر کسی ملک میں ہمارے خلاف کیس رجسٹر نہ ہونا بیگناہی کا ثبوت ہے۔سابق وزیراعظم کے صاحبزادینے یہ بھی کہا کہ کابینہ میں شامل کرپٹ وزراء کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، معاہدے کے مطابق اگرحکومت پاکستان بھی کوئی رقم برآمد کرتی تواس میں سے بھی براڈ شیٹ کو حصہ ملنا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…