جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

پاکستان چینی میں خودکفیل ، قیمت بھی کنٹرول میں آگئی شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت کو اہم مشورہ دیدیا

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شوگر ملوں کا کرشنگ سیزن 15مارچ کو ختم ہو جائیگا ، روزنامہ جنگ میں حنیف خالد کی شائع خبر کے مطابق ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے 15مارچ تک ملک کی 87شوگر ملیں 66لاکھ ٹن چینی پیدا کریں گی، اس لئے حکومت پاکستان کو چینی کی درآمد کی

پرائیویٹ سیکٹر کو اجازت دینے کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ پاکستان چینی کے معاملے میں خودکفیل ہے اور اسکی قیمت بھی معقول سطح پر پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن برقرار رکھے ہوئے ہے۔ ملک میں چینی کی ضرورت 58لاکھ ٹن سے زیادہ نہیں ہے جبکہ سندھ ،پنجاب ،خیبر پختونخوا کی 87سے زائد شوگر ملیں اعلی معیار کی 66لاکھ ٹن چینی پیدا کرنے میں مصروف ہیں۔ یہ عالمی معیار کی چینی ہے جس کی موجودگی میں مصر ،برازیل، تھائی لینڈ، دوبئی وغیرہ سے گندھک والی بھارتی چینی درآمد کرنے کی پاکستان کو غلطی نہیں کرنی چاہئے۔ جب ہمارے پاس 8لاکھ ٹن فاضل چینی کی پیداوار متوقع ہے تو حکومت کو مڈل مین کے گنا خریداری کے غیرقانونی مراکز کو کین کمشنر کو فوری بند کرانا چاہئے ورنہ چینی کے ایکس ملز ریٹ 82روپے کلو سے بڑھنے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں جس کی تمام تر ذمہ داری کین کمشنر پر عائد ہو گی۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے کین کمشنرزمان وٹو کا کہنا ہے کہ 15مارچ 2021

تک پچھلے سال سے 5لاکھ ٹن زیادہ چینی ملک کی 87شوگر ملوں میں تیار ہو گی ،اس لئے ڈیوٹی فری اور ٹیکس فری پانچ سے آٹھ لاکھ ٹن چینی درآمد کرنا درست فیصلہ نہیں ہو گا۔ دریں اثنا پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے کین کمشنر زمان وٹو سے درخواست کی ہے کہ وہ گنے کے مڈل مینوں کے غیرقانونی خریداری کے مراکز فوری بند کرائیں تاکہ شوگر ملوں کو دو سے تین سو روپے من تک گنا خریدنے کی نوبت پیش نہ آئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…