جمعرات‬‮ ، 19 فروری‬‮ 2026 

زیادہ پیداوار کے باوجودآخر بجلی مہنگی کیوں کی گئی؟ پی ٹی آئی حکومت کی سنگین غفلت اور نااہلی کا انکشاف

datetime 24  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ دو برس میں اقتصادی سست روی، کوروناوائرس کی عالمی وبا کے پھیلائو اور ٹیرف اصلاحات میں نااہلی کی وجہ سے حکومت بجلی ٹیرف میں 1.95 روپے فی یونٹ بڑھانے پر مجبور ہوئی ہے۔ روزنامہ جنگ میں مہتاب حیدر کی شائع خبر کے مطابق

ذرائع نے بتایا ہے کہ سپلائی میں اضافے اور ٹیرف میں اصلاحات نہ لانے کے سبب حکومت کے پاس اور کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ وہ ٹیرف میں اضافہ کردے۔ جبکہ گزشتہ دو سال سے زائد عرصے کے دوران یہ پی ٹی آئی حکومت کی ذمہ داری تھی کہ وہ اصلاحات کرتی۔مجموعی صلاحیت چارجز 860 ارب روپے ہیں کیونکہ سرپلس پاور موجود ہے اور اس کے استعمال کی کوئی طلب نہیں ہے اور حکومت کو بجلی پیدا کرنے والوں کو صلاحیت چارجز ادا کرنا پڑرہے ہیں۔ ن لیگ دور حکومت میں بجلی کی فراہمی میں 10 ہزار سے 13 ہزار میگاواٹ نیشنل گرڈ میں اس بنیاد پر اضافہ کیا گیا تھا کہ ملک کی جی ڈی پی نمو اوسط 5 فیصد سالانہ بڑھے گی اور اسی طرح بجلی کی طلب میں بھی سالانہ 5 سے 8 فیصد اضافہ ہوگا۔ جب کہ ملک کی جی ڈی پی منفی 0.38 فیصد ہوگئی۔ معاہدے کے مطابق، حکومت کو سی پیک کے تحت تعمیر کیے گئے پاور پلانٹس سے پیدا ہونے والی بجلی خریدنی تھی۔ اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ حکومت نے

پاور ٹیرف میں 1.95 روپے فی یونٹ اضافہ 2019-20 کے بنیادی ٹیرف پر عمل درآمد کیلئے کیا ،کیونکہ یہ 13.35 روپے سے بڑھ کر 15.30 روپے فی یونٹ ہوچکا ہے اور ملک بھر میں مجموعی اوسط ٹیرف 16.50 روپے فی یونٹ ہے۔دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی

شہباز گل نے ٹوئٹر پر کہا ہے کہ اگر پاکستان کی GDPہر سال 7% بڑھی ہوتی تب بھی زیادہ سے زیادہ پاکستان کو 10,000میگاواٹ کے منصوبے درکار تھے۔ PMLN نے اپنا مال بنانے کے چکر میں 22,000 میگاواٹ کے اضافی بجلی بنانے کے منصوبوں کے کنٹریکٹ کر ڈالے۔

خود تو پیسہ بنا گئے لیکن عوام کو دنیا کی مہنگی ترین بجلی کے چکر میں پھنسا دیا۔سردیوں میں ہم تقریبا ً13 ہزار میگا واٹ استعمال کرتے ہیں اور 26ہزار میگاواٹ کے بغیر استعمال پیسے دیتے ہیں۔گرمیوں میں تقریباً 25 ہزار استعمال کرتے ہیں اور 11 ہزار کے بغیر استعمال پیسے دیتے ہیں۔حکومت کے پاس صرف دو آپشن، یہ گھاٹا بجلی مہنگی کر کے ادا کریں یا بیرونی قرضے لے کر۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…