اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

وزیر خزانہ حفیظ شیخ کی حلف برداری کو چیلنج کردیا گیا،قومی خزانے کے تحفظ کیلئے ہائیکورٹ میں بڑا قدم اٹھا لیا گیا

datetime 20  جنوری‬‮  2021 |

راولپنڈی(آن لائن)صدر پاکستان کے روبرو وزیر خزانہ کی حلف برداری کو لاہور ہائیکورٹ کے روبرو چیلنج کردیا گیا۔ایک رٹ پٹیشن میں عدالت عالیہ کو خبردار کیا گیا کہ قومی خزانہ کسی غیر منتخب شخص کے حوالے کرنا آئین کی سنگین خلاف ورزی ہوگی،لہٰذا وزیرخزانہ حفیظ شیخ کے فرائض منصبی کے بارے ہائیکورٹ کے

راولپنڈی بنچ سے حکم امتناعی طلب کیا گیا ہے۔عدالت پر واضح کیا گیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل91محض چھ ماہ کیلئے وزیر خزانہ کی عارضی تقرری کی اجازت قطعاً نہیں دیتا۔یاد رہے کہ وزیراعظم کے مشیر نے11دسمبر کو صدر مملکت کے روبرو وفاقی وزیر خزانہ کا حلف اٹھایا اور قومی خزانے کے ساتھ ساتھ انہیں محصولات یعنی ریونیو کا محکمہ بھی دیا گیا۔گزشتہ دو سالوں میں مشیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرنے سے قاصر رہے اور سپیکر اسد قیصر کی درپردہ مداخلت پر قومی بجٹ وزیرمملکت حماد اظہر نے پیش کیا۔سیاسی حلقوں کی نظر میں حفیظ شیخ کی تازہ ترین تقرری دراصل انہیں سینٹ کا رکن بنانے کی طرف پہلا قدم ہے لیکن اب لاہور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ انہیں تمام انتخابی عہدوں کیلئے نااہل قرار دیا جائے۔آزاد صحافی شاہد اورکزئی نے عدالت عالیہ کے سامنے چار آئینی سوالات اٹھائے ہیں اور وفاق کو فریق ثانی بنایا گیا ہے۔وزارت قانون نے اس تقرری سے وزیراعظم کیلئے ایک نئی مشکل کھڑی کردی ہے اورحفیظ شیخ کی ممکنہ نااہلی کی صورت میں انہیں وزارت خزانہ اور ریونیو ڈویژن کا چارج ایک بار پھر اپنی جماعت کے کسی رکن اسمبلی کو دینا ہوگا اور وہ تقرری بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کیلئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے،جس کا تمام تر زور بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر

ہے۔یاد رہے کہ وزارت خزانہ اسد عمر کے پاس تھی جنہیں منصوبہ بندی کا وزیر بنا کر دوبارہ وفاقی کابینہ میں شامل کیا گیا۔وزیرتوانائی عمرایوب بھی وزارت خزانہ کے وزیر مملکت رہ چکے ہیں،بحیثیت مشیر وزیر خزانہ حفیظ شیخ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی کارروائی میں حصہ لینے کے مجاز تھے لیکن نااہلی کی صورت میں انہیں یہ آئینی حق حاصل نہ ہوگا اور وزیر اعظم اور حکمران تحریک انصاف کو پارلیمنٹ کے سامنے جوابدہی میں مشکلات پیش آسکتی ہیں اور حکم امتناعی ایک اضافی دردسر بن سکتا ہے۔ہائیکورٹ21جنوری کو رٹ پٹیشن کی سماعت کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…