جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

نااہلی کیس فیصل واوڈا کو آخری مہلت

datetime 20  جنوری‬‮  2021 |

اسلام آباد (این این آئی) الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا نااہلی کیس میںوفاقی وزیر کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری موقع دیتے ہوئے کہا ہے کہ 9فروری تک سکروٹنی کے وقت دوہری شہریت تھی یا نہیں فیصل واڈا جواب جمع کرائیں۔بدھ کو الیکشن کمیشن میں وفاقی وزیر فیصل واوڈا

کے خلاف نااہلی کی درخواستوں پر چیف الیکشن کمشنر کی سربراہی میں پانچ رکنی کمیشن نے سماعت کی ۔چیف الیکشن کمشنرنے کہا کہ فیصل واوڈا کیس میں چار درخواستگزاروں میں سے دو نے دلائل دئیے ہیں۔فیصل واوڈا کے وکیل نے ایک بار پھر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض اٹھا تے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا کے خلاف نااہلی کی درخواستیں الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں ۔انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی نااہلی کی درخواستیں دائر ہیں۔انہوں نے کہا کہ فیصل واوڈا کے خلاف ریٹرننگ افسر کے پاس کاغذات نامزدگی چیلنج کیے تھے،ریٹرننگ افسر نے فیصل واوڈا کیس میں جھوٹ بولا ،الیکشن کمیشن ریٹرننگ افسر کو طلب کرے۔درخواستگزار قادر مندوخیل نے الیکشن کمیشن سے فیصل واوڈا کی تفصیلات وزارت خارجہ سے منگوانے کا مطالبہ کیا۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جو جتنا بڑا آدمی ہو الیکشن کمیشن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے،الیکشن کمیشن کسی کے دبائو کا شکار نہیں

ہوگا۔چیف الیکشن کمشنر نے فیصل واوڈا کے وکیل سے سوال کیا کہ جب کاغذات نامزدگی جمع کرائے تھے اس وقت فیصل واڈا کے پاس دوہری شہریت تھی؟ ۔وکیل نے کہا کہ جب کاغذات نامزدگی جمع کرائے اس وقت فیصل واوڈا کے پاس امریکا کی شہریت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ

کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے پہلے فیصل واوڈا کے پاس دوہری شہریت تھی۔چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ یہ تو آپ نے قبول کر لیا کہ فیصل واوڈا کے پاس دوہری شہریت تھی۔الیکشن کمیشن نے فیصل واوڈا کو جواب جمع کرانے کیلئے آخری موقع دیتے ہوئے کہا کہ 9فروری تک سکروٹنی کے وقت دوہری شہریت تھی یا نہیں فیصل واڈا جواب جمع کرائیں۔الیکشن کمیشن نے دو درخواست گذاروں کو دلائل دینے کیلئے بھی آخری موقع دیدیا۔بعد ازاں کیس کی سماعت 9فروری تک ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…