اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پی ڈی ایم نے حکومت گرانے کے بعد اگلے وزیر اعظم کا انتخاب بھی کرلیا، نوازشریف نے حمایت کردی

datetime 30  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، این این آئی )نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی( ف) کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے استخارہ کیا ہے کہ مولانا فضل الرحمن وزیراعظم بنیں گے۔اس حوالے سے جب ان سے سوال کیا گیا کہ اگر پی ڈی ایم حکومت کو گرانے

میں کامیاب ہو جاتی ہے تو کیا مولانا وزیراعظم بنیں گے؟اس بات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ بتانا تو علم غیب ہے کہ اگلا وزیراعظم کون ہو گا۔نواز شریف کا بھی بیان آیا ہے کہ اگر یہ حکومت پی ڈی ایم کے نتیجے میں جاتی ہے تو بے شک پہلے وزیراعظم مولانا فضل الرحمن بن جائیں۔دوسری باری پیپلز پارٹی کی ہو اور آخری باری ہماری ہو۔جس طرح میں نے اندازہ لگایا اس طرح نواز شریف نے بھی اندازہ لگا لیا۔مفتی کفایت اللہ نے کہا کہ نواز شریف نے یہ بات اس لیے کی کہ اگر پی ڈی ایم جماعتیں جیت جاتی ہیں تو اپنائیت پیدا کر کے وزارت عظمیٰ کے لیے باریاں لی جائیں۔مفتی کفایت اللہ سے مولانا فضل الرحمن کی جائیدادوں سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارا سوال یہی ہے نہ کہ اگر مولانا پر کوئی الزام ہے تو میڈیا پر بات کرنے سے تو کسی کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔آپ کی حکومت مرکز میں بھی ہے اور صوبے میں بھی ہے، ہاتھ ڈالو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔آپ جب ہاتھ نہیں ڈالتے تو

شک ہوتا ہے کہ معاملہ کچھ بھی نہیں ہے۔مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ نیب ہمیشہ سیاسی انتقام کے لیے استعمال ہوا ہے۔ہماری جماعت کا موقف تھا کہ نیب کو سیاست سے الگ ہونا چاہئے۔اگر مولانا پر کوئی الزام ہے تو میڈیا پر بات کرنے سے وہ سچ ثابت نہیں ہو گا،آپ کے پاس ادارہ بے

بسم اللہ کرو۔دوسری جانب نیب خیبر پختونخوا نے اثاثہ جات کیس میں جمعیت علمائے اسلام ف اور اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کو دوبارہ اثاثہ جات فارم بھجوانے کا فیصلہ کر لیا۔نیب ذرائع کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) پشاور نے 21 اور 22 دسمبر کو مولانا فضل الرحمن کو خط بھجوایا گیا تھا۔نیب ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمن کے ملازمین نے اس موقع پر یہ کہہ کر کہ مولانا فضل الرحمن گھر پر نہیں ہیں، فارم لینے سے انکار کر دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…