جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

خواجہ آصف کی گرفتاری میں( ن) لیگ کے مخبر کاہاتھ نکل آیا

datetime 30  دسمبر‬‮  2020 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی ) گزشتہ روزآمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ آصف کی گرفتاری عمل میں آئی۔ انہیں اسلام آباد میں احسن اقبال کے گھر سے گرفتار کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کو احسن اقبال کے گھر سے اطلاع دی گئی تھی

کہ خواجہ آصف اس وقت اجلاس میں شریک ہیں ، احسن اقبال کے گھر پر ہی موجود کسی شخص نے پولیس کو مخبری کی جس پرپولیس نے احسن اقبال کے گھر پہنچ کر خواجہ آصف کو گرفتارکرلیا تاہم یہ اطلاع کس نے دی اس کا نام ابھی سامنے نہیں آسکا۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو کے مطابق سابق وفاقی وزیر خواجہ آصف کو آمدن سے زائد اثاثہ جات بنانے کے کیس میں گرفتار کیا گیا ہے ،ملزم کی جانب سے مبینہ طور پر اثاثہ جات کو منی لانڈرنگ کے طور پر بنایا گیا جن کے ذرائع تاحال ثابت نہیں کئے جا سکے ۔ ذرائع کے مطابق 1991 تک خواجہ آصف کے اثاثہ جات محض 50 لاکھ مالیت پر مشتمل تھے اگرچہ پبلک آفس ہولڈر ہونے کے فوری بعد ان میں تیزی سے اضافہ ہوتے ہوئے 221 ملین تک پہنچ گئے جن کے ذرائع تاحال ہونے والی تحقیقات میں وہ ثابت نہیں کر پائے۔ذرائع کے ملزم کے ظاہر شدہ اثاثہ جات کے مطابق ملزم نے یو اے ای کی ایک کمپنی میں ملازمت کے طور پر 130 ملین روپے کمائے جبکہ اس رقم کے کوئی

کاغذی شواہد دینے میں ناکام رہے جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم نے اپنی ناجائزذرائع سے حاصل شدہ رقم کو چھپانے کیلئے اقامہ آمدن کے طور پر ظاہر کیا۔ملزم خواجہ آصف طارق میر نامی بے نامی کمپنی کے بھی مالک ثابت ہوئے جس میں 40 کروڑ روپے ڈالے گئے اور ان کی

جانب سے اس رقم کے ذرائع بھی ثابت نہ کئے جا سکے ۔نیب ذرائع کے مطابق ملزم کے خلاف جاری تحقیقات میں یہ ثابت ہوا کہ ان کے اقامہ کے ذریعے نوکری کے دورانیہ میں وہ پاکستان میں ہی موجود رہے اور اقامہ کے کاغذات کا مقصد صرف اور صرف ناجائز ذرائع سے حاصل شدہ آمدن کو چھپانا تھا۔ملزم کی جانب سے اب تک اقامہ سے حاصل شدہ تنخواہ کا کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…