جمعرات‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2025 

ایل این جی خریداری ندیم بابر اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان بڑا مناظرہ ایک دوسرے پر تابڑ توڑ حملے، معاملہ کھل کر سامنے آگیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نجی ٹی وی کے پروگرام دنیا کامران خان کے ساتھ میں ایل این جی خریداری کے معاملے پر ندیم بابر اور شاہد خاقان عباسی کے درمیان بڑا مناظرہ ہوا۔ معاون خصوصی ندیم بابر سستی گیس خریدنے کے دعوے پر قائم رہے جبکہ لیگی رہنما شاہد خاقان عباسی نے

ان پر خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کا الزام لگایا۔تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ مجھے خوشی ہے کہ اس حکومت نے ایل این جی کی اہمیت کو مانا۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ گیس خریدے اور سسٹم میں ڈالے۔ان کا کہنا تھا کہ ہماری ایل این جی کی طلب بہت واضح ہے۔ ہمیں پاور پلانٹس چلانے کیلئے ایل این جی اور مختلف شعبوں میں گیس کی اشد ضرورت ہے۔ موجودہ حکومت نے نئے ٹرمینلز نہیں لگائے۔ ہمیں ملک میں مزید ایل این جی ٹرمینلز لگانے کی ضرورت ہے۔ آج 6 مزید کارگو ہم لا سکتے ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ ایگزون موبل دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے جو پاکستان میں پلانٹ لگانے آئی لیکن وہ اڑھائی سال انتظار کرتی رہی لیکن پلانٹس نہ لگنے دیا گیا۔ یہ کمپنی دنیا میں ایل این جی ٹرمینل لگانے میں ماہر سمجھی جاتی ہے ،انہوں نے کہا کہ ہمارا قطر سے معاہدہ بہترین تھا۔ ہمیں اس سے سستی گیس نہیں مل سکتی تھی جس قیمت پر ہمارا معاہدہ ہوا۔ قطر کا معاہدہ

15 سال کیلئے ہوا لیکن 10 سال بعد وہ معاہدہ چھوڑ سکتے ہیں۔ قطر کیساتھ ہمارے معاہدے سے سے پاکستان کو 4 سو ملین ڈالر سالانہ فائدہ جبکہ سوا 200 ملین ڈالر سالانہ بچت ہو رہی ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے زمانے سب زیادہ گیس کی تلاش کے لائسنس جاری کیے گئے

تاہم پاکستان میں گیس بہت کم مقدار میں نکلتی ہے، بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہونا مشکل ہے۔ ہم نے پھر بھی کوشش کی کہ گیس کے ذخائر تلاش کیے جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ گیس انفراسٹرکچر سیس (جی آئی ڈی سی)کے سارے پیسے حکومت پاکستان کے پاس ہیں۔ یہ پیسے بنیادی طور پر

ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور ترکمانستان گیس پائپ لائن کیلئے تھے۔اس موقع پر پروگرام کے دوران گفتگو کرتے ہوئے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر کا کہنا تھا کہ میں یہ مانتا ہوں کہ ملک کو ایل این جی کی ضرورت ہے ،سابق حکومت نے پاور پلانٹس کو ڈیزل سے ایل این جی پر

منتقل کر کے اچھا کام کیا۔ تاہم ن لیگ کے دور میں ایل این جی کو پیٹرول ڈکلیئر کرایا گیا۔ندیم بابر نے کہا کہ ایک ٹرمینل اگلے مہینے تعمیراتی کام شروع کر رہا ہے جبکہ دوسرا ٹرمینل بھی جلد تعمیراتی کام شروع کرنے والا ہے۔ ہم روز 527 ملین ڈالر ہر روز ان ٹرمینلز کو دیتے ہیں۔ان کا کہنا تھا

کہ ساری مارکیٹ کہہ رہی تھی کہ قیمتیں کم ہونگی، اس لیے 10 سال کا معاہدہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ 10 سال بعد ہم معاہدہ چھوڑ نہیں سکتے، دوبارہ قیمتیں طے کر سکتے ہیں۔ ان کے اپنے دور میں ہی ثابت ہو گیا، وہ قیمتیں مناسب نہیں تھیں۔انہوں نے کہا سابقہ حکومت میں 226 ارب روپے

جی آئی ڈی سی کی مد میں جمع ہوئے۔ جی آئی ڈی سی کے جو پیسے جمع ہوئے وہ کہاں ہیں؟ شاہد صاحب بتا دیں۔ دس مہینے تک ٹرمینل کی پوری پیمنٹ دیتے رہے لیکن گیس نہیں لائی گئی۔ یہ پاور پلانٹس 7 نہیں دو سے اڑھائی سال این جی پر چلے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…