اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

تعلیمی اداروں کی بندش، وفاقی وزیر شفقت محمودنے طلبا کے نام اہم پیغام جاری کردیا، والدین کیلئے بڑی خبر آگئی

datetime 1  دسمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیرِ تعلیم شفقت محمود نے طلبہ سے گزارش کی ہے کہ وہ عالمی وبا کورونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے باعث بند کئے گئے تعلیمی اداروں کو بطور چھٹیاں نہ گزاریں بلکہ نصاب پر نظر ثانی کریں۔انہوں نے اپنے حالیہ ٹوئٹ میں کہا کہ تعلیمی اداروں کی

بندش کا فیصلہ بڑے بھاری دل سے کیا گیا کیونکہ تعلیمی اداروں میں کورونا وائرس تیزی سے پھیل رہا تھا۔وفاقی وزیر تعلیم نے طلبہ سے گزارش کی کہ آپ اس وقت کو بطور چھٹیاں استعمال کرنے کے بجائے پڑھائی پر دھیان دیں۔انہوں نے کہا کہ اس وقت میں نصاب پر نظر ثانی کریں، ہوم ورک کریں، مختصر طور پر ہی سہی لیکن زیادہ سے زیادہ مطالعہ جاری رکھیں۔دوسری جانب ملک بھر میں کورونا وائرس کے فعال کیسز کی تعداد 49 ہزار سے زائد ہوگئی جبکہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 66 مریض چل بسے ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ملک بھر میں 40 ہزار 969 کورونا ٹیسٹ کئے گئے جس کے بعد مجموعی کوویڈ 19 ٹیسٹس کی تعداد 55 لاکھ 49 ہزار 779 ہوگئی۔این سی اوسی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 2 ہزار 458 نئے کیسز رپورٹ ہوئے جس کے بعد ملک بھرمیں مجموعی کیسز کی تعداد 4 لاکھ 482 ہوگئی۔سرکاری اعدادو شمار کے مطابق

سندھ میں مریضوں کی تعداد ایک لاکھ 74 ہزار 350 ، پنجاب میں ایک لاکھ19 ہزار 578، خیبرپختونخوا 47 ہزار 370 ، اسلام آباد میں 30 ہزار 406، بلوچستان میں 17 ہزار 187 ، آزاد کشمیر 6 ہزار 933 اورگلگت بلتستان میں 4 ہزار 658 تعداد ہوگئی۔این سی او سی کے

مطابق فعال کیسز کی تعداد بڑھ کر 49 ہزار 105 ہوگئی جن میں سے 2 ہزار 165 مریضوں کی تعداد تشویشناک ہے۔گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید ایک ہزار 863 افراد نے کورونا کو شکست دے دی ہے جس کے بعد کورونا وائرس میں مبتلا 3 لاکھ 43 ہزار 268 مریض صحت یاب ہوچکے ہیں۔

سرکاری اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں مزید 66 اموات رپورٹ ہوئیں جس کے بعد مجموعی اموات کی تعداد 8 ہزار 091 ہوگئی۔این سی اوسی کے مطابق ملک بھرمیں کورونا کے مثبت کیسزکی شرح 6 فیصد ہے۔ میرپورآزاد کشمیرمیں سب سے زیادہ جبکہ پشاوراورحیدرآباد کورونا مثبت شرح کے لحاظ سے دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…