برطانیہ کا نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے پر غور برطانیہ نے پاکستان کی درخواست پر جواب دیدیا

  بدھ‬‮ 4 ‬‮نومبر‬‮ 2020  |  13:27

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم کے مشیر برائے امور داخلہ شہزاد اکبر کا کہنا ہے کہ برطانوی محکمہ داخلہ نے نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کی پاکستان کی درخواست پر جواب دیدیا ہے۔ روزنامہ جنگ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ برطانوی محکمہ داخلہ نے انہیںبتایا ہے کہ لندن اسلام آباد کی درخواست پر غور کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تحریری طور پر لندن سے کچھ موصول نہیں ہوا لیکن وہ برطانیہ میں حکام کے ساتھ رابطے میں ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں حکومت پاکستان کی طرف سے برطانیہ کو خط لکھ کر نواز شریف کو ڈی پورٹ


کرنے کی درخواست کی تھی تاکہ وہ اپنی سزا کا باقی ماندہ حصہ پاکستان کی جیل میں گزاریں۔حکام کی رائے ہے کہ نواز شریف کے ویزے کی معیاد رواں ماہ ختم ہو جائے گی۔نواز شریف کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست ان کی سزا کو دیکھ کر کی گئی ہے۔کیونکہ یہ ڈی پورٹ کرنے کے لیے ایک موزوں کیس ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ ماضی میں بھی مجرموں کو ڈی پورٹ کرتے رہے ہیں اور نواز شریف کے کیس میں بھی ایسا کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پہلے چھ ماہ کے وزٹ ویزے پر گئے تھے جس میں بعد میں توسیع کی گئی۔واضح رہے کہ اس سے پہلے وزیر اعظم عمران خان نے دو ٹوک الفاظ میں یہ کہا تھا کہ نوازشریف کی واپسی کیلئے اگر برطانوی وزیر اعظم سے بھی ملنا پڑا تو وہ ملیں گے ، ان کی واپسی کیلئے تمام وسائل استعمال کئے جائینگے ۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

براڈ شیٹ

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے‘ جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انہیں ....مزید پڑھئے‎

شریف الدین پیرزادہ عرف عام میں جدہ کے جادوگر کہلاتے تھے‘ یہ ملک کے واحد قانون دان تھے جو قانون سے ہر قسم کی گنجائش نکال لیتے تھے چناں چہ ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک یہ ملک کے ہر آمر کے دست راست رہے‘ جنرل ضیاء الحق مرشد جب کہ جنرل پرویز مشرف انہیں ....مزید پڑھئے‎