جمعرات‬‮ ، 13 اگست‬‮ 2026 

عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھینا جانے لگا۔۔۔ جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافہ وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد نوٹیفکیشن بھی جاری

datetime 28  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن )نجی ٹی وی سما نیوز کے مطابق جان بچانے والی 94 ادویات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کردیاگیا،ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ادویات کی قیمتوں میں اضافے کانوٹیفکیشن جاری کیا۔یاد رہے وفاقی کابینہ نے 22 ستمبر کو94 ادویات

کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دی تھی ،ہائی بلڈپریشر ،کینسر،دل اور دیگر ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،نوٹیفکیشن کے مطابق ادویات کی اضافہ شدہ قیمت31 جون 2021 تک منجمد رہے گی ،اضافہ شدہ ایم آر پی کے حصول کیلئے دو شرائط ہوں گی ،حکومت کی جانب سے ادویات کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے کے بعدہسپتالوں میں داخل مریضوں کا علاج عذاب بن گیا ہے ۔مہنگی ادویات خریدنے کی سکت نہ رکھنے والے غریب شہری موت کی دہائی دینے لگے۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد سے تعلق رکھنے والے شہری اورنگزیب نے بتایا کہ ان کی اہلیہ چندہ بی بی کینسر کے مرض میں مبتلا ہے اور کئی مہینوں سے پمز ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کینسر کاعلاج انتہائی مہنگاہے تاہم حکومت کی جانب سے ادویات مہنگی ہونے سے خریدنے کی سکت بھی ختم ہوگئی ہے ،مہنگی ادویات کی وجہ سے ہماری زندگی بھر کی جمع پونجی ختم ہوگئی ہے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ پمز

ہسپتال کے ڈاکٹر نے ایک دن قبل 15 روز کیلئے ادویات لکھ کر دیں جس کا میڈیکل سٹور والے نے60 ہزار کا بل تھما دیا ،اہلیہ کو روزانہ10 ہزار کا انجکشن لگتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اسی ڈاکٹر نے پانچ انجکشن لکھ کر دیئے ۔انہوں نے کہا کہ میں ایک غریب آدمی ہوں اور ایک ہوٹل پر کام کر کے اپنے بچوں کا پیٹ پالتا ہوں ،اہلیہ کے علاج کیلئے اپنی ساری زندگی کی جمع پونجی خرچ اور جائیداد فروخت کر دی ہے ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…