گرفتاریوں کا سیزن ٹوشروع ن لیگ نے تہلکہ خیز اعلان کردیا

  منگل‬‮ 20 اکتوبر‬‮ 2020  |  13:52

اسلام آباد(آن لائن)سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے گرفتاریوں کا سیزن ٹو شروع ہونے والا ہے، ہم گرفتاریوں کے سیزن ٹو کے لئے بھی تیار ہیں، عمران خان کی نالائقی پر قومی اداروں کا وقار قربان ہو رہا ہے ،عمران خان کےوزرا بار بار قومی اداروں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، ان خیالات کا اظہار انھوں نے احتساب عدالت اسلام آباد کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران کیا، احسن اقبال نے کہا کہ موجودہ حکومت کبھی عدلیہ تو کبھی مسلح افواج کو سامنے کرتی ہے حکومت اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے


کے لئے یہ گھناؤنا کھیل کھیل رہی ہے، ہم پہلے ہی کہتے تھے یہ کمپنی نہیں چلے گی، اب کمپنی پٹ چکی ہے، کچھ لوگ کہتے تھے ''گل ودھ گئی'' میں کہتا ہوں ''گل مْک گئی'' ہے، تمام اداروں کو جھونک دیا گیا کہ کشمیر بھول جائیں، ن لیگ کیخلاف کارروائی کریں ایک دن میں ہمارے بیس جوان شہید ہوئے انہیں سلام پیش کرتے ہیں، ساتھ سوال بھی پوچھتا ہوں دہشتگردی کو ختم کر دیا تھا دوبارہ زور کیوں پکڑ رہی ہے؟انھوں نے یہ بھی کہا کہ جن اداروں نے دہشتگردی سے لڑنا تھا انہیں سیاسی جنگ میں لگا دیا گیا،آج نیشنل ایکشن پلان کو سیاسی انتقام کا پلان بنادیا گیا ،ہماری مسلح افواج کی بہادری پر کسی کو شک نہیں ہے ،مسلح افواج کی پشت پر قومی یکجہتی اور مضبوطمعیشت نہ ہوئی تو بہادری اکیلے کچھ نہیں کر سکتی، ہمارے دور حکومت میں کشمیر پر بھارت کو کبھی میلی آنکھ ڈالنے کی جرات نہیں تھی عمران خان کے دور میں بھارت اس کشمیر کو ہڑپ کر گیا ہے، مجھے عمران خان بتائیں میں کشمیر کی ایف آئی آر کس پر کاٹوں؟سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ڈھائی سال سے ہم ای سی ایل میں ہیں زندگی کے معاملات نہیں چلا سکتے ،ابھی تک حکومت اور نیب فیصلہ نہیں کر سکے ہمارے خلاف کیس کیا ہے ،عدالت میں جمع کرائے گئے نیب کے ہزاروں صفحے ردی کے علاوہ کچھ نہیں۔جس عدالت میں ارشد ملک جج تھا وہاں انصاف کیا کیا توقع رکھیں فیصلہ وہی ہو گا جو ارشد ملک کی طرح لکھ کر دیا جائے گا، کیپٹن صفدر کو تو ضمانت مل گئی آئی جی سندھ کو ضمانت کون دے گا حکومت مکمل طور ناکام ہو چکی ہے ملک میں مہنگائی کا طوفان آیا ہوا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں مہنگائی پر قابو پانے کے حکومت کو اقدامات اْٹھانے چاہیئے تھے مگر حکومت اپوزیشن کو رگڑا دینے پر توجہ مرکوز کی ہوئی ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بڑے چودھری صاحب

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎

انیس سو ساٹھ کی دہائی میں سیالکوٹ میں ایک نوجوان وکیل تھا‘ امریکا سے پڑھ کر آیا تھا‘ ذہنی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط تھا‘ آواز میں گھن گرج بھی تھی اور حس مزاح بھی آسمان کو چھوتی تھی‘ یہ بہت جلد کچہری میں چھا گیا‘ وکیلوں کے ساتھ ساتھ جج بھی اس کے گرویدا ہو گئے‘ اس ....مزید پڑھئے‎