جمعہ‬‮ ، 12 جون‬‮ 2026 

نوازشریف کی جانب سے استعفیٰ مانگنے کا الزام لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے خاموشی توڑ دی دھرنے سے نمٹنے کیا مشورہ دیا؟آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی کے اہم انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے دوٹوک

الفاظ میں انکار کیا کہ انہوں نے کسی بھی شخص کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو کوئی پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو بھی وزیراعظم کو کوئی پیغام دینے کیلئے نہیں بھیجا، یہ بالکل غلط ہے۔اس کی بجائے، انہوں نے اصرار کیا کہ 2014 کے دھرنے کے وقت ہر موقع پر وہ حکومت کو مشورہ دیتے رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے سیاسی انداز سے نمٹا جائے تاکہ احتجاج ختم کیا جا سکے۔یاد رہے کہ حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلی مرتبہ سب کے سامنے دعویٰ کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے 2014 کے حکومت مخالف دھرنے کے دوران انہیں پیغام بھیجا تھا کہ آدھی رات تک استعفیٰ دے دیں۔ حال ہی میں منعقدہ مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران نواز شریف نے پارٹی ارکان کو بتایا کہ مجھے آدھی رات ایک پیغام ملا تھا۔انہوں نے مزید کہا، کہا گیا تھا کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو نتائج بھگتنا ہوں گے

اور مارشل لا بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف نے کہا، میں نے کہا ۔۔ جو چاہیں کر لیں لیکن میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔ تاہم، نواز شریف نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جو ان کے پاس ڈی جی آئی ایس آئی کا پیغام لیکر آیا تھا۔ 2014 میں، پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی

پاکستان عوامی تحریک نے 126 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جو 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف تھا۔ 2015 کے آخری دنوں میں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا نام لے کر ان کے پی اے ٹی اور

پی ٹی آئی کے 2014 کے دھرنے کے دوران نواز شریف حکومت کو مبینہ طور پر غیر مستحکم کرنے میں کردار کا ذکر کیا تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کیخلاف لندن پلان کی سازش کے پیچھے جنرل ظہیر کا ہاتھ ہے۔اس وقت، حکمرانوں کے بند کمروں کے اجلاسوں میں جو

کچھ زیر بحث تھا وہ وزیر دفاع نے سب کو بتا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف حکومت کیخلاف لندن پلان جنرل شجاع پاشا ور جنرل ظہیر الاسلام کا مشترکہ پلان تھا۔خواجہ آصف نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ 2014 کے اپریل میں حامد میر پر حملے کے بعد جنرل ظہیر کا

حکومت کے ساتھ جیو کے معاملے پر حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف پر تنازع تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپنا ذاتی تنازع نمٹانے کیلئے جنرل ظہیر نے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا۔ خواجہ آصف کی رائے تھی کہ وزیراعظم اس صورتحال سے اچھی سے نمٹے اور وہ پرسکون رہے۔

وزیر دفاع کا بیان کچھ عسکری حلقوں کو اس وقت پسند نہیں آیا تھا جس کے باعث انہیں کہا گیا کہ وہ اس معاملے پر مزید بات نہ کریں۔ بعد میں کابینہ کے ایک اور رکن مشاہد اللہ خان کو اس وقت مستعفی ہونا پڑا جب انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو کے پاس وہ ٹیلی فون ریکارڈنگز موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سازش میں جنرل ظہیر الاسلام ملوث تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



8 بجے تک


میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…