ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

نوازشریف کی جانب سے استعفیٰ مانگنے کا الزام لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے خاموشی توڑ دی دھرنے سے نمٹنے کیا مشورہ دیا؟آئی ایس آئی کے سابق ڈی جی کے اہم انکشافات

datetime 15  اکتوبر‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)آئی ایس آئی کے سابق ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے کہا ہے کہ انہوں نے کبھی سابق وزیراعظم نواز شریف سے استعفیٰ طلب نہیں کیا۔ روزنامہ جنگ میں انصار عباسی کی شائع خبر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے دوٹوک

الفاظ میں انکار کیا کہ انہوں نے کسی بھی شخص کے ذریعے وزیراعظم نواز شریف کو کوئی پیغام بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کو بھی وزیراعظم کو کوئی پیغام دینے کیلئے نہیں بھیجا، یہ بالکل غلط ہے۔اس کی بجائے، انہوں نے اصرار کیا کہ 2014 کے دھرنے کے وقت ہر موقع پر وہ حکومت کو مشورہ دیتے رہے کہ پاکستان تحریک انصاف اور پاکستان عوامی تحریک سے سیاسی انداز سے نمٹا جائے تاکہ احتجاج ختم کیا جا سکے۔یاد رہے کہ حال ہی میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے پہلی مرتبہ سب کے سامنے دعویٰ کیا کہ سابق آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل (ر) ظہیر الاسلام نے 2014 کے حکومت مخالف دھرنے کے دوران انہیں پیغام بھیجا تھا کہ آدھی رات تک استعفیٰ دے دیں۔ حال ہی میں منعقدہ مسلم لیگ نون کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران نواز شریف نے پارٹی ارکان کو بتایا کہ مجھے آدھی رات ایک پیغام ملا تھا۔انہوں نے مزید کہا، کہا گیا تھا کہ اگر آپ ایسا نہیں کریں گے تو نتائج بھگتنا ہوں گے

اور مارشل لا بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف نے کہا، میں نے کہا ۔۔ جو چاہیں کر لیں لیکن میں استعفیٰ نہیں دوں گا۔ تاہم، نواز شریف نے اس شخص کا نام نہیں بتایا جو ان کے پاس ڈی جی آئی ایس آئی کا پیغام لیکر آیا تھا۔ 2014 میں، پاکستان تحریک انصاف اور طاہر القادری کی

پاکستان عوامی تحریک نے 126 دن تک اسلام آباد میں دھرنا دیا تھا جو 2013 کے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کیخلاف تھا۔ 2015 کے آخری دنوں میں، وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک ٹی وی انٹرویو کے دوران سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ظہیر الاسلام کا نام لے کر ان کے پی اے ٹی اور

پی ٹی آئی کے 2014 کے دھرنے کے دوران نواز شریف حکومت کو مبینہ طور پر غیر مستحکم کرنے میں کردار کا ذکر کیا تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ حکومت کیخلاف لندن پلان کی سازش کے پیچھے جنرل ظہیر کا ہاتھ ہے۔اس وقت، حکمرانوں کے بند کمروں کے اجلاسوں میں جو

کچھ زیر بحث تھا وہ وزیر دفاع نے سب کو بتا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف حکومت کیخلاف لندن پلان جنرل شجاع پاشا ور جنرل ظہیر الاسلام کا مشترکہ پلان تھا۔خواجہ آصف نے اپنے ٹی وی انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ 2014 کے اپریل میں حامد میر پر حملے کے بعد جنرل ظہیر کا

حکومت کے ساتھ جیو کے معاملے پر حکومت کی جانب سے اختیار کردہ موقف پر تنازع تھا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اپنا ذاتی تنازع نمٹانے کیلئے جنرل ظہیر نے قومی مفاد کو نقصان پہنچایا۔ خواجہ آصف کی رائے تھی کہ وزیراعظم اس صورتحال سے اچھی سے نمٹے اور وہ پرسکون رہے۔

وزیر دفاع کا بیان کچھ عسکری حلقوں کو اس وقت پسند نہیں آیا تھا جس کے باعث انہیں کہا گیا کہ وہ اس معاملے پر مزید بات نہ کریں۔ بعد میں کابینہ کے ایک اور رکن مشاہد اللہ خان کو اس وقت مستعفی ہونا پڑا جب انہوں نے غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ انٹیلی جنس بیورو کے پاس وہ ٹیلی فون ریکارڈنگز موجود ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ سازش میں جنرل ظہیر الاسلام ملوث تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…