جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

بجلی کا فی یونٹ 6روپے مہنگا کرنے کی تیاریاں

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(انٹرنیشنل پریس ایجنسی)پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو گردشی قرضوں میں اضافے کی رفتار پر قابو پانے کے اقدامات کے سلسلوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو گنجائش کی ادائیگیوں میں کمی کرنے کے لیے

کچھ غیر مقبول تجاویز پیش کیں، حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کی جانب سے آئی پی پیز کو گنجائش کی ادائیگیوں میں اضافے پر خصوصی بریفنگ دی گئی جو گردشی قرضوں کی سب سے بڑی وجہ ہے،مجوزہ منصوبے میں 7 یا 8 سخت اقدامات شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان سے 2023 تک تخمینہ کیا گیا گردشی قرضہ 13 کھرب روپے تک پہنچنے کے بجائے 6 کھرب 20 ارب روپے تک رہے گا تاہم یہ اندازہ 2 ملکی معیشت کی صورتحال کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قرض دہندگان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے قبول کرنے پر منحصر ہے، اگر آئی ایم ایف اور عالمی بینک چاہیں گے یہ اسلام آباد گردشی قرضوں کو صفر پر لے آئے تو دیگر اقدامات کے ساتھ حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ کرنا پڑے گا تاہم قیمتوں میں اضافہ کرنے یا نہ کرنے کا

حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت بین الاقوامی دبائو کو برداشت اور گردشی قرضوں کو ایک خاص سطح تک رکھ سکتی ہے،کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ برس تک سسٹم میں 10 ہزار میگا واٹ کی گنجائش کا اضافہ کیا جائے گا، گزشتہ چند سالوں سے سسٹم میں اضافے

کی وجہ سے آئی پی پیز کو گنجائش کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوا ہے ،گنجائش کی ادائیگیوں کا میکانزم پیداواری گنجائش اور دستیابی فراہم کرنے والے آئی پی پیز کے لیے آمدن کا ایک مقررہ سلسلہ ہے، کابینہ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مقامی جریدے کو بتایا کہ 2018 کے

مقابلے 2023 تک گنجائش کی ادائیگیاں 10 کھرب روپے تک تجاوز کر جائیں گی، انہوں نے کہا کہ ماضی میں اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے باوجود 2020 میں گردشی قرضہ 5 کھرب 38 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر حکومت نے درستی کے اقدامات نہیں

کیے تو گردشی قرض 13 کھرب روپے تک بڑھ جائے گا ہم اس اضافے کو 6 کھرب 20 ارب روپے تک کم کرنے کے لیے 7 سے 8 اقدامات پر کام کررہے ہیں، تاہم اسے صفر کرنا ممکن نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ گنجائش کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے مسئلے کی روک تھام کے

لیے بجلی کے نئے منصوبوں پر بھی غور کیا جارہا ہے،کابینہ میں پیش کی گئی تجاویز میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات، آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات اور غیر موثر آئی پی پیز کو بند کرنا شامل ہے، آئندہ برس تک 18 سو میگا واٹ کے آئی پی پیز بند جبکہ 2023 تک 4 ہزار میگا واٹ تک کے آئی پی پیز بند کیے جائیں گے کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سال 2020 میں 853 ارب روپے کے گردشی قرضے میں 3 سو ارب روپے سے زائد کی کمی آئی ہے.

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر


میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…