پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بجلی کا فی یونٹ 6روپے مہنگا کرنے کی تیاریاں

datetime 30  ستمبر‬‮  2020 |

اسلام آباد(انٹرنیشنل پریس ایجنسی)پاور ڈویژن نے وفاقی کابینہ کو گردشی قرضوں میں اضافے کی رفتار پر قابو پانے کے اقدامات کے سلسلوں کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو گنجائش کی ادائیگیوں میں کمی کرنے کے لیے

کچھ غیر مقبول تجاویز پیش کیں، حکومتی ذرائع کے مطابق گزشتہ روز ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر اور معاون خصوصی برائے بجلی شہزاد قاسم کی جانب سے آئی پی پیز کو گنجائش کی ادائیگیوں میں اضافے پر خصوصی بریفنگ دی گئی جو گردشی قرضوں کی سب سے بڑی وجہ ہے،مجوزہ منصوبے میں 7 یا 8 سخت اقدامات شامل ہیں جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان سے 2023 تک تخمینہ کیا گیا گردشی قرضہ 13 کھرب روپے تک پہنچنے کے بجائے 6 کھرب 20 ارب روپے تک رہے گا تاہم یہ اندازہ 2 ملکی معیشت کی صورتحال کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قرض دہندگان عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کے قبول کرنے پر منحصر ہے، اگر آئی ایم ایف اور عالمی بینک چاہیں گے یہ اسلام آباد گردشی قرضوں کو صفر پر لے آئے تو دیگر اقدامات کے ساتھ حکومت کو بجلی کی قیمتوں میں 6 روپے فی یونٹ تک اضافہ کرنا پڑے گا تاہم قیمتوں میں اضافہ کرنے یا نہ کرنے کا

حتمی فیصلہ اس بات پر منحصر ہے کہ حکومت بین الاقوامی دبائو کو برداشت اور گردشی قرضوں کو ایک خاص سطح تک رکھ سکتی ہے،کابینہ کو بتایا گیا کہ آئندہ برس تک سسٹم میں 10 ہزار میگا واٹ کی گنجائش کا اضافہ کیا جائے گا، گزشتہ چند سالوں سے سسٹم میں اضافے

کی وجہ سے آئی پی پیز کو گنجائش کی ادائیگیوں میں اضافہ ہوا ہے ،گنجائش کی ادائیگیوں کا میکانزم پیداواری گنجائش اور دستیابی فراہم کرنے والے آئی پی پیز کے لیے آمدن کا ایک مقررہ سلسلہ ہے، کابینہ رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مقامی جریدے کو بتایا کہ 2018 کے

مقابلے 2023 تک گنجائش کی ادائیگیاں 10 کھرب روپے تک تجاوز کر جائیں گی، انہوں نے کہا کہ ماضی میں اٹھائے گئے مختلف اقدامات کے باوجود 2020 میں گردشی قرضہ 5 کھرب 38 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اگر حکومت نے درستی کے اقدامات نہیں

کیے تو گردشی قرض 13 کھرب روپے تک بڑھ جائے گا ہم اس اضافے کو 6 کھرب 20 ارب روپے تک کم کرنے کے لیے 7 سے 8 اقدامات پر کام کررہے ہیں، تاہم اسے صفر کرنا ممکن نہیں ہے اس کے ساتھ ساتھ گنجائش کی بڑھتی ہوئی ادائیگیوں کے مسئلے کی روک تھام کے

لیے بجلی کے نئے منصوبوں پر بھی غور کیا جارہا ہے،کابینہ میں پیش کی گئی تجاویز میں بجلی کے شعبے میں اصلاحات، آئی پی پیز کے ساتھ دوبارہ مذاکرات اور غیر موثر آئی پی پیز کو بند کرنا شامل ہے، آئندہ برس تک 18 سو میگا واٹ کے آئی پی پیز بند جبکہ 2023 تک 4 ہزار میگا واٹ تک کے آئی پی پیز بند کیے جائیں گے کابینہ کو بتایا گیا کہ حکومتی اقدامات کے نتیجے میں سال 2020 میں 853 ارب روپے کے گردشی قرضے میں 3 سو ارب روپے سے زائد کی کمی آئی ہے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…