یہ اسمبلیوں سے استعفے دیں، ہم ضمنی الیکشن کروا دیں گے، یہ ضمنی انتخابات میں ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکیں گے، وزیراعظم عمران خان کا اپوزیشن کو چیلنج

  جمعہ‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2020  |  22:01

اسلام آباد (این این آئی)وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا ہے کہ اگر اپوزیشن استعفے دے گی تو اگلے روز ضمنی انتخابات کرادیں گے، اپوزیشن سے کوئی خطرہ نہیں، ضمنی انتخابات میں اپوزیشن ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے گی،کرپشن پرکسی کو این آر او نہیں دوں گا، فوجی قیادت سے چھپ کر ملنے والوں کے بار ے میں کیا کہوں؟مجھے ملاقاتوں کا علم ہوتا ہے،ہماری حکومت کرپٹنہیں اسی لئے فوجی قیادت ہمارے فیصلوں کی حمایت اورتائید کرتی ہے،نوازشریف کی تقریر بھارت کے بیان کی عکاسی اور حکومت و آرمی کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی سازش تھی،اگلے سال سے


ملک میں چینی اورگندم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا،گیس بحران آئے گا جس کے لیے عوام کو تیار رہنا ہوگا۔ٹی وی چینلز کے نیوز ڈائریکٹرز سے ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ نوازشریف کی تقریر بھارت کے بیان کی عکاسی اور حکومت و آرمی کے تعلقات میں دراڑ ڈالنے کی سازش تھی، ہم نے تقریر نشر کرنے کی اجازت اس لیے دی کہ آزادی اظہارِ رائے کا شور برپا ہوجاتا۔انہوں نے کہاکہ نواز شریف کھیل سے باہر ہو چکے ہیں،اس لئے وہ چاہتے ہیں کہ نہ کھیلوں گا اور نہ کھیلنے دوں گا۔انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے ہمیں کوئی خطرہ نہیں ہے، فوجی قیادت ہمارے فیصلوں کی حمایت یا تائید اس لیے کرتی ہے کہ ہماری حکومت کرپٹ نہیں ہے۔وزیراعظم عمران خان نین کہا کہ میرا وژن ایک ایسا پاکستان ہے جس کے ہاتھ میں کشکول نہ ہو۔عمران خان نے اعلان کیا کہ اگر اپوزیشن کے استعفے آئے تو ان نشستوں پر دوبارہ ضمنی انتخابات کرادیں گے، میں کرپشن پرکسی کو این آر او نہیں دوں گا، ضمنی انتخابات میں اپوزیشن ایک سیٹ بھی نہیں جیت سکے گی۔انہوں نے کہاکہ نوازشریف اور آصف زرداری کا کوئی سیاسی مستقبل نہیں دیکھتا، یہ مولانا فضل الرحمان کو اپنے ساتھ اس لیے رکھتےہیں کیونکہ ان کے پاس افرادی قوت نہیں جو فوجی قیادت سے چھپ کر ملتے ہیں ان کے بارے میں کیا کہوں کیونکہ مجھے اْن ملاقاتوں کا علم ہوتا ہے۔وزیر اعظم نے کہا کہ اگلے سال سے ملک میں چینی اورگندم کا کوئی مسئلہ نہیں ہوگا کیونکہ ہم نے حکمت عملی مرتب کرلی ہے۔ انہوں نے کہاکہ گیس بحران آئے گا جس کے لیے عوام کو تیار رہنا ہوگا کیونکہ ہم مہنگی گیس نہیں خرید سکتے۔وزیراعظمکا کہنا تھا کہ ملک میں 27 فیصد لوگ پائپ لائن، 73 فیصد لوگ بغیر پائپ لائن کے گیس استعمال کرسکتے ہیں،ہمیں عوام کو گیس کے استعمال سے متعلق آگاہی دینا ہوگی۔ وزیر اعظم نے کہاکہ کچھ وزیر اپنے خلاف ہی گول کر دیتے ہیں،ہر جماعت میں اختلاف رائے ہوتا رہتا ہے،سیاسی جماعتوں میں نظم وضبط بنانا ممکن نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ یوٹرن ہمیشہ ایک مقصد کے لیے ہوتا ہے۔انہوں نے کہاکہ (ن) لیگ ہو یا (ش) لیگ یہ لوگ صرف خاندانی سیاست کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں مانتا ہوں کہ میری حکومت میں میڈیا سے رابطوں کا فقدان ہے۔ دوران گفتگو انہوں نے ایک مرتبہ پھرنواز شریف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ مایوس ہو چکے ہیں، وہ فوج اور حکومت کے درمیان تاریخی ہم آہنگی کو توڑنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن کا ایجنڈا حکومت اور فوج کے درمیان لڑائی کرانا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎