جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کاسانحہ اے پی ایس پشاور کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنیکاحکم دیدیا

datetime 25  ستمبر‬‮  2020 |

ا اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ اے پی ایس پشاور کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنیکاحکم دیدیا ہے جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے شہداء کے والدین کی جانب سے 16دسمبر کو برسی میں پشاور آرمی پبلک سکول آنے کی دعوت قبول کر لی۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کی

سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ میں ملوث لوگ گرفتاربھی ہوئے اورانہیں سزابھی دی جاچکی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے ہم متاثرہ والدین کیساتھ آنکھیں نہیں ملاسکتے۔ چیف جسٹس نے متاثرہ والدین سیاستفسار کیا کہ آپ بتائیں آپ حکومت سے کیاچاہتے ہیں؟ متاثرہ والدین نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی پر معمور لوگوں کو ہی نہیں اعلیٰ عہدے پر بیٹھے ذمہ داروں کو بھی سزاملنی چاہیے،یہ واقعہ دہشتگردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنک ہوئی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ صرف آپ کا دکھ نہیں پوری قوم کا دکھ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان تمام لوگوں کا بھی پتہ چلے جو سیکورٹی پر معمور تھے اٹارنی جنرل صاحب سن لیں یہ متاثرین کیا چاہتے ہیں،ملک کا المیہ ہے کہ حادثے کے بعد صرف چھوٹے اہلکاروں پر ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، اب اس ریت کو ختم کرناہوگا۔ انہوںنے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو سزا اوپر سے شروع کرنا ہوگی، حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ ایسا واقع رونما نہ ہو، جو سیکیورٹی کے ذمہ دارتھے انکے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، سیکیورٹی اداروں کے پاس اطلاعات تو ہونی چاہیے تھی، جب عوام محفوظ نہیں تو بڑی سیکیورٹی کیوں رکھی جائے۔عدالت نے انکوائری کمیشن رپورٹ اور وفاقی حکومت کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔ عدالت نے حکومت کو کمیشن رپورٹ پر لائن آف ایکشن بنانے اور ذمہ داران کیخلاف سخت قانونی کاروائی کا حکم دیتے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…