سپریم کورٹ کاسانحہ اے پی ایس پشاور کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنیکاحکم دیدیا

  جمعہ‬‮ 25 ستمبر‬‮ 2020  |  13:22

ا اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ اے پی ایس پشاور کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنیکاحکم دیدیا ہے جبکہ چیف جسٹس گلزار احمد نے شہداء کے والدین کی جانب سے 16دسمبر کو برسی میں پشاور آرمی پبلک سکول آنے کی دعوت قبول کر لی۔ جمعہ کو سپریم کورٹ میں سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور ازخود نوٹس کیس کی سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کیسربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ واقعہ میں ملوث لوگ گرفتاربھی ہوئے اورانہیں سزابھی دی جاچکی ہے اور یہ بھی حقیقت ہے ہم متاثرہ


والدین کیساتھ آنکھیں نہیں ملاسکتے۔ چیف جسٹس نے متاثرہ والدین سیاستفسار کیا کہ آپ بتائیں آپ حکومت سے کیاچاہتے ہیں؟ متاثرہ والدین نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی پر معمور لوگوں کو ہی نہیں اعلیٰ عہدے پر بیٹھے ذمہ داروں کو بھی سزاملنی چاہیے،یہ واقعہ دہشتگردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنک ہوئی ہے جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ صرف آپ کا دکھ نہیں پوری قوم کا دکھ ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ ان تمام لوگوں کا بھی پتہ چلے جو سیکورٹی پر معمور تھے اٹارنی جنرل صاحب سن لیں یہ متاثرین کیا چاہتے ہیں،ملک کا المیہ ہے کہ حادثے کے بعد صرف چھوٹے اہلکاروں پر ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، اب اس ریت کو ختم کرناہوگا۔ انہوںنے کہاکہ اٹارنی جنرل صاحب آپ کو سزا اوپر سے شروع کرنا ہوگی، حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ ایسا واقع رونما نہ ہو، جو سیکیورٹی کے ذمہ دارتھے انکے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، سیکیورٹی اداروں کے پاس اطلاعات تو ہونی چاہیے تھی، جب عوام محفوظ نہیں تو بڑی سیکیورٹی کیوں رکھی جائے۔عدالت نے انکوائری کمیشن رپورٹ اور وفاقی حکومت کی رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیتے ہوئے امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔ عدالت نے حکومت کو کمیشن رپورٹ پر لائن آف ایکشن بنانے اور ذمہ داران کیخلاف سخت قانونی کاروائی کا حکم دیتے ہوئے سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ....مزید پڑھئے‎