جمعرات‬‮ ، 15 جنوری‬‮ 2026 

ن لیگ ، پیپلز پارٹی ،جے یو آئی(ف) کی جانب سے حکومت کی حمایت قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشتگردی بل 2020کی منظوری دیدی

datetime 12  اگست‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے انسداد دہشت گردی بل 2020کی منظوری دے دی۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون فروغ نسیم نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 پیش کیا،جسے ایوان نے کثرت رائے سے منظور کرلیا، حکومتی اتحاد کے علاوہ اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی ،مسلم لیگ (ن) اور جے یو آئی (ف) نے بھی انسداد دہشت گردی بل کی حمایت کی۔

جمعیت علمائے اسلام (ف) نے بھی ایف اے ٹی ایف قانون سازی پر حکومت کی حمایت کردی، جے یو آئی کی رکن قومی اسمبلی شاہدہ اختر علی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ جہاں پاکستان کا نام آتا ہے تو حکومت اپوزیشن میں فرق نہیں رہتا، ہم بھی اتنے ہی پاکستانی ہیں جتنا کوئی اور ہے، دہشتگردی کا کوئی مذہب نہیں، دہشت گردی کی ٹھیک وضاحت کی جائے، ہمارا اعتراض قانون سازی کے طریقہ کار پر تھا، قانون سازی کو شفاف ہونا چاہیے تاکہ کل کو ایوان پر حرف نہ آئے، ہم ملک کی خاطر قانون سازی میں حصہ لیں گے، اللہ کرے پاکستان گرے لسٹ سے نکلے اور ہم سرخرو ہوجائیں۔ایوان میں کارروائی کے دوران مسلم لیگ (ن) نے انسداد دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل 2020 میں اپنی ترامیم واپس لے لیں، رکن قومی اسمبلی محسن شاہ نواز رانجھا نے کہا کہ حکومت نے ہماری تجویز کردہ ترامیم شامل کرلی ہیں، چاہتے ہیں کہ پاکستان کا نام ٹیرر فنانسنگ کی لسٹ والے ممالک سے نکلے۔بل سے متعلق اظہار خیال کرتے ہوئے بی این پی (مینگل) کے رکن سردار اختر جان مینگل نے کہا کہ حکومت و اپوزیشن اتفاق رائے میں بی این پی شامل نہیں، ہم جب حکومت کا حصہ تھے تو ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جاتا، ہم آزاد بنچز پر بیٹھے ہیں، ہم چلتی گاڑی کے مسافر نہیں، پہلے تو وضاحت ہونی چاہیے کہ دہشتگردی کیا ہے۔

کیا اس ملک ہے وزرائے اعظم کو دہشتگرد قرار نہیں دیا گیا تھا؟،کیا کسی کے خلاف ایف آئی آر کاٹنے سے وہ دہشت گرد بن جاتا ہے، شیشہ توڑنے والا دہشتگرد بن جاتا ہے اور آئین توڑنے والا نہیں، پہلے آئین توڑنے والے کو دہشت گرد قرار دیں پھر ہم آپ کے ساتھ ہیں۔اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے بل کی حمایت پر وزیر قانون بیرسٹر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف ایٹی ایف قانون سازی پر حمایت کے لیے اپوزیشن کا شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج کا دن بہت اچھا ہے، پاکستان کے لیے حکومت و اپوزیشن ایک ہوگئے، یہ طے ہونا چاہیے کہ دہشتگردی اور اسلام میں زمین آسمان کا فرق ہے، پاکستان کی معیشیت کو بلیک سے وائٹ ہونا چاہیے، پاکستان کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قوانین ہوں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…