مودی کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا وقت کا ضیاع کلبھوشن کو قانون کے مطابق سزا ملے گی،پاکستان کا دو ٹوک اعلان

  جمعرات‬‮ 6 اگست‬‮ 2020  |  14:48

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)کلبھوشن کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ کلبھوشن کو قانون کے مطابق سزا ملے گی۔ بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم نے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کی ہے جس کے بعد ہم نے اسے ٹرائل کا حق دیا۔لیکن کلبھوشن خود دہشت گردی کا اعتراف کر چکا ہے جس کے بعد اسے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔مزید بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ کلبھوشن دہشت گردی کا


اعتراف کر چکا ہے، اس وقت مودی کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا وقت کا ضیاع ہے، بھارت کے ساتھ موجودہ حالات میں گفت شنید نہیں ہو سکتی۔ خیال رہے کہ اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن معاملے پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا ہے، لارجربنچ کیلئے عابد حسن منٹو، حامد خان اور مخدوم علی خان عدالتی معاون مقرر کردیے گئے، حکومتی آرڈیننس سے عالمی عدالت کے خدشات کو دورہوئے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا ہے۔جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے بھارتی دہشتگرد کلبھوشن معاملے پر لارجر بنچ تشکیل دینے کا فیصلہ کرلیا، لارجربنچ کیلئے عابد حسن منٹو، حامد خان اور مخدوم علی خان عدالتی معاون مقرر کردیے گئے۔ عدالت نے کہا کہ حکومت نے آرڈیننس جاری کرکے عالمی عدالت کے خدشات کو دور کیا۔آرڈیننس کے ذریعے سزا کے عدالتی جائزہ کی راہ ہموار کی گئی۔ فی الحال کلبھوشن کیلئے خود وکیل مقرر کرنے سے اجتناب کررہے ہیں۔ بھارت اور کلبھوشن کو موقع دیتے ہیں خود وکیل مقرر کریں۔وفاقی حکومت کو حکم دیتے ہیں کہ عدالتی فیصلے سے متعلق بھارت اور کلبھوشن یادیو کو آگاہ کیا جائے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

بالا مستری

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎

ہم اگر حضرت عمر فاروقؓ کی شخصیت کو دو لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو ”عدل فاروقی“ لکھ دینا کافی ہو گا‘ حضرت عمرؓ انصاف کے معاملے میں انقلابی تھے‘ یہ عدل کرتے وقت شریعت سے بھی گنجائش نکال لیتے تھے مثلاً حجاز اور شام میں قحط پڑا‘ لوگوں نے بھوک سے تنگ آ کر خوراک چوری کرنا ....مزید پڑھئے‎