منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

حکومت کا پیٹرول بحران کی تحقیقات کیلئے انکوائری کمیشن بنانے کا فیصلہ کمیشن کو کون کون سے اختیارات حاصل ہونگے؟جانئے

datetime 28  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)حکومت نے ملک میں گزشتہ دنوں ہونے والی پیٹرول کی قلت، تیل کی قیمتوں کو سہ ماہی بنیادوں پر طے کرنے اور درآمد شدہ یورو-5 پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کے طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے لیے کمیشن بنانے کا اصولی فیصلہ کرلیا۔

نجی ٹی وی کے مطابق باخبر ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر کابینہ ڈویژن پیٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قلت اور ذمہ داروں کے تعین کیلئے پاکستان کمیشن آف انکوائری ایکٹ 2017 کے تحت ایک انکوائری کمیشن کی تشکیل کی سمری پیش کرے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی پوری سپلائی چین کے ریکارڈ، اسٹاک کی صورتحال، فراہمی اور فروخت کے فرنزک آڈٹ کیلئے اس انکوائری کمیشن میں تقریباً تمام انویسٹی گیشن، انٹیلی جنس اور ریگولیٹری اداروں کے نمائندے شامل ہوں گے۔ذرائع نے بتایا کہ پیٹرول کی قلت کے لیے کئی انکوائری کمیٹیاں تشکیل دی گئیں تاہم زیادہ تر وزیراعظم کی توقعات پر پورا نہ اتری ایسا مفادات کے تصادم، شواہد کی عدم دستیابی، اسٹیک ہولڈرز کے عدم تعاون یا عدالتوں میں درپیش چیلنجز کی وجہ سے ہوا۔چنانچہ اب فیصلہ کیا گیا کہ انکوائری کمیشن تشکیل دیا جائے تا کہ اسے تمام قانونی اختیار دیے جاسکیں جس طرح چینی اور آٹے بحران کے انکوائری کمیشنز کو دیا گیا۔کابینہ کمیشن کے ٹی آر اوز بھی منظور کرے گی جس میں قومی احتساب بیورو (نیب)، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے)، انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، انٹرسروسز انٹیلی جنس ایجنسی (آئی ایس آئی)، اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، آئل آینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا)، مسابقتی کمیشن پاکستان (سی سی پی)، ہائیڈرو کاربن ڈیولپمنٹ انسٹیٹیوٹ آف پاکستان اور فیڈرل بورڈ آف پاکستان (ایف بی آر) کے نمائندے شامل ہوں گے۔اس کمیشن کو مارکیٹ ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کرنے کا اختیار ہوگا تا کہ سپلائی چین کے مختلف مقامات پر اسٹاکس، درآمدی آرڈرز اور تبدیلیوں، ماہانہ اور سہ ماہی پروڈکٹ ریویو اجلاس کی فیصلہ سازی پر نظرِ ثانی کی جاسکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…