ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان کے 27 میں سے 14 نکات پر عمل باقی کی کیا صورتحال ہے ؟ مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے آگاہ کردیا

datetime 11  جولائی  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) وزیراعظم کے مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے اے ایم ایل اور سی ایف ٹی رجیم کو مزید مؤثر بنا کر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے ایکشن پلان کی جلد از جلد تکمیل کو یقینی بنا رہا ہے۔

وزارت خزانہ سے جاری پریس ریلیز کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی احتساب، شفافیت اور دیانت داری پر ایک اعلیٰ سطح کے پینل سے آن لائن ایپلیکیشن زوم کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے ہوئے مشیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 14 نکات پر عمل کرچکا ہے جبکہ بقیہ 13 پر بھی عملدآمد میں پیش رفت ہوئی ہے۔اجلاس میں پینل نے مالی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے ضروری مالی احتساب، شفافیت اور دیانت داری سے متعلق جامع بین الاقوامی فریم ورک پر عمل کرنے کے حوالے سے رکن ممالک کی مجموعی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔مشیر خزانہ نے پینل کو بتایا کہ پاکستان نے باہمی جائزاتی رپورٹ کے مجوزہ ایکشنز پر قابل قدر پیشرفت کی ہے جس میں تکنیکی عملدرآمدر کیلئے 15 قانونی ترامیم، ایم ایل/سی ٹی پر نیشنل رسک اسسمنٹ پر کی اپڈیٹ/انسداد منی لانڈرنگ پرعملدرآمد/مالی دہشت گردی کا سامنا کرنے کیلئے ڈی این ایف بی پیز پر اقدامات، سی ڈی این ایس اور پاکستان پوسٹ، پابندیوں میں توسیع وغیرہ شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح پاکستان نے حالیہ برسوں میں صارفین واجب الادا اور ایف اے ٹی ایف کے معیار کے مطابق مالیاتی اداروں کو اپنے صارف کو جاننے اور اے ایم ایل/سی ایف ٹی ہدایات پر اے ایم ایل/سی ایف ٹی کے قواعد کو مضبوط بنا کر ناجائز رقوم کی ترسیل کو روکنے کیلئے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔

مشیر خزانہ نے کہا کہ بین الاقوامی معیار سے مزید مطابقت کیلئے اے ایم ایل ایکٹ میں ترمیم کی گئی تا کہ ٹیکس جرائم کو تصدیقی جرائم میں شامل کیا جائے۔اس کے علاوہ اے ایم ایل ایکٹ میں سنگین جرائم، بشمول بدعنوانی، منشیات، دہشت گردی اور انسانی اسمگلنگ کو شامل کرنے کے لیے تصدیقی جرائم کی بڑی تعداد کو شامل کیا گیا۔مشیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے پاکستان ریمیٹینسز انیشی ایٹو(پی آرآئی) متعارف کروایا ہے تا کہ باضابطہ طریقوں سے رقوم ملک میں بھجوائی جاسکیں جس کے نتیجے میں پاکستان نے گزشتہ دہائی میں زرمبادلہ میں اضافہ دیکھا جو مالی سال 2008 کے 6 ارب 40 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر مالی سال 20 میں 23 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…