بجٹ اجلاس،اپوزیشن کو بحث کیلئے29گھنٹے 14منٹ ملے حکومت کو کتنا وقت ملا؟سپیکر اسد قیصر اجلاس کی تفصیلات سامنے لے آئے

  جمعرات‬‮ 2 جولائی‬‮ 2020  |  16:51

اسلام آباد(آن لائن) اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے و زیراعظم کے مشیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے ملاقات کی ہے ۔جس میں بجٹ اجلاس، قانون سازی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ملاقات میں پارلیمان کے حکومت کی نگرانی کے کردار کو مزید فعال بنانے پر غورہوا۔سپیکراسد قیصر کا اس موقع پر کہناتھاکہ کورونا وبا کے باعث پوری دنیا کی معیشت متاثر ہوئی۔ موجودہ حکومت کی طرف سے ٹیکس فری بجٹ پیش کرنا خوش آئند ہے۔ اراکین پارلیمنٹ نے بجٹ اجلاس کے دوران جس نظم ونسق کا مظاہرہ کیا وہ قابل تحسین


ہے۔ کورونا وبا کی موجودگی کے باوجود اراکین کو بجٹ بحث میں زیادہ سے زیادہ موقع فراہم کیا گیا۔اسد قیصرنے کہا موجودہ حالات میں اراکین کی جانب سے اتنی بڑی تعداد میں بحث میں حصہ غیر معمولی ہے۔ حکومتی اور اپوزیشن بنچوں کی جانب سے کھل کر اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچا مگر حکومت نے ٹیکس فری بجٹ دیا۔بجٹ اجلاس میں حکومت کے مقابلے میں اپوزیشن کو ذیادہ وقت دیا گیا۔ بجٹ پر عمومی بحث کے لیے 40گھنٹے کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا بجٹ بحث 57 گھنٹے 9 منٹ کروائی گئی۔ جس میں اپوزیشن نے 29 گھنٹے 14 منٹ اور حکومت نے 27 گھنٹے 55 منٹ بحث کی۔ اپوزیشن کو اپنے مقررہ وقت سے 10 گھنٹے 49 منٹ جبکہ حکومت کو 6 گھنٹے 20 منٹ اضافی وقت ملا۔بجٹ اجلاس میں 208 ارکان نے حصہ لیا۔ جن میں حکومت کے 107 اور اپوزیشن کے 101 ارکان ارکان شامل تھے۔ملاقات میں اپوزیشن کو اعتماد میں لے کر پارلیمان کو مزید موثر بنانے کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا اور 8 جولائی کو شروع ہونیوالے اجلاس کے ایجنڈے پر غور کیا گیا ۔ڈاکٹر بابر اعوان نے ایوان کو خوشگوار ماحول میں چلانے پر اسپیکر کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ موجودہ حکومت پارلیمان کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے۔ بابر اعوان نے کہا بجٹ سیشن کے دوران اراکین کی طرف سے پیش کی گئی تجاویز حکومت کو آئندہ بجٹ بنانے میں مددگار ثابت ہوگی۔


موضوعات: