منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ملک میں جاری پٹرول بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ تیل کمپنیوں کا بھی موقف آگیا،صورتحال واضح ہوگئی

datetime 15  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) تیل بحران کی ذمہ دار بیوروکریسی ہے،تیل قیمتوں میں کمی کے بعد پیدابحران پر تیل کمپنیوں کا ردعمل بھی آگیا۔ کمپنیوں کے مطابق پیٹرول کی درآمد اور مقامی پیداوار میں اضافے سے متعلق بیوروکریسی نے فیصلہ ہی نہیں کیاجس کی وجہ سے موجودہ صورتحال پیدا ہوئی۔

نجی ٹی وی کے مطابق آئل کمپنیوں کی ایڈوائزری کونسل (او سی اے سی) نے کہا ہے کہ ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بدنام کرنے کے لیے جھوٹی معلومات کی مہم شدید تشویش کا باعث ہے۔یہ افسوسناک ہے کہ گزشتہ 2 ہفتوں میں ڈاؤن اسٹریم پیٹرولیم سیکٹر کی طرف بہت زیادہ جھوٹی معلومات اور الزام تراشی کا کھیل دیکھا گیا ہے جو یہ غیرضروری اور متضاد ہے۔ملک میں پٹرول کی موجودہ قلت کی موروثی وجوہات پر نظرثانی اور اس کا جائزہ لینے کی اشد ضرورت ہے جس میں مارچ میں درآمدی پابندی بھی شامل ہے، وزارت توانائی کی جانب سے اپریل میں اس پابندی کو ختم کرنے اور درآمدات کے لیے منظوری میں تاخیر کی ہدایت کی گئی تھی۔ن کا کہنا تھا کہ ہم اس بات کو اجاگر کرنا چاہتے ہیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کی ایک عام سپلائی چین 45 سے 60 دن تک ہوتی ہے جبکہ اپریل کی فروخت کے مقابلہ میں جون کی فروخت میں 82 فیصد کا اضافہ نمایاں ہے خاص طور پر جب پیٹرول کی درآمد پر بھاری انحصار ہوتا ہے جس کے ساتھ سپلائی کی مختلف پیچیدگیاں بھی جڑی ہیں جیسے بین الاقوامی سپلائرز / تاجروں کے ذریعہ مناسب مقدار کا حصول، سمندری فریٹ مارکیٹ میں بڑی تعداد میں مصنوعات کیریئر (جہازوں) کی دستیابی، بندرگاہوں پر رکاوٹیں وغیرہ۔

ڈاؤن اسٹریم پٹرولیم سیکٹر ملک کے ذمہ دار کارپوریٹ شہری ہے اور پاکستان میں توانائی کی سلامتی کو برقرار رکھنے میں اس کی بہت بڑی شراکت کے پیش نظر اسے احترام کے ساتھ برتاؤ کرنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے ملک کے بیشتر حصوں میں یکم جون سے اب تک پیٹرول کی عوام کو فراہمی میں مسائل پیداہورہے ہیں۔ پیٹرول پمپس پر لوگوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں جبکہ کئی مقامات پر لوگ احتجاج کرتے بھی دکھائی دیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…