اتوار‬‮ ، 14 جون‬‮ 2026 

ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں کر سکتی؟ چین میں کورونا پھیلا تو فوری قوانین بنائے،پاکستان میں انسانی جانوں کا تحفظ پریس کانفرنسوں سے نہیں ہوگا بلکہ۔۔۔۔چیف جسٹس کے اہم ترین ریمارکس

datetime 8  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے انسانی جانوں کا تحفظ صرف پریس کانفرنسیں کرنے سے نہیں بلکہ قانون سازی اور عملی اقدامات سے ہو گا۔پیر کو کورونا وائرس ازخود نوٹس کیس کی سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں 4 رکنی بینچ نے کی۔

دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے تاحال کورونا سے تحفظ کے لیے قانون سازی نہیں کی، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبوں کی جانب سے قانون سازی کی گئی ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قومی سطح پر بھی کورونا سے تحفظ کے لیے کوئی قانون سازی ہونی چاہیے، قومی سطح پر قانون سازی کا اطلاق پورے ملک پر ہوگا۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے کام کر سکتے ہیں تو پارلیمنٹ کیوں نہیں کر سکتی؟جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ نہیں معلوم کورونا مریضوں کی تعداد کہاں جا کر رکے گی۔انھوں نے کہا کہ کورونا وائرس کسی صوبے میں تفریق نہیں کرتا اور لوگوں کو مار رہا ہے، وفاقی حکومت کو اس معاملے پر لیڈ کرنا چاہیے، وفاقی حکومت کورونا سے بچاؤ کیلئے قانون سازی کرے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ قانون سازی کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں ہوا، چین نے وبا سے نمٹنے کے لیے فوری قوانین بنائے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ عدالت لوگوں کے بنیادی حقوق کی بات کررہی ہے، زندگی کا تحفظ سب سے بڑا بنیادی حق ہے، موجودہ حالات میں لوگوں کی زندگی کو خطرات لاحق ہیں۔انھوں نے کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کا تحفظ نہیں ہوگا۔

تحفظ قانون کے بننے اور اس پرعمل سے ہوگا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دئیے کہ وقت سب سے بڑا اثاثہ ہے، وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، ہمارے پاس زیادہ وقت نہیں رہا۔اٹارنی جنرل آف پاکستان نے عدالت سے کہا کہ حکومت کو قانون سازی کی تجویز دوں گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بھی کورونا وائرس کی حدت کو محسوس کر رہے ہیں جب کہ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ ڈاکٹرز کو حفاظتی سامان ہر حال میں دستیاب ہونا چاہیے۔

جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کہا کہ وفاقی حکومت کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے، کورونا سے تحفظ کا حل قانون سازی ہے اور قانون سازی کرنا وفاقی حکومت کے حق میں ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ خدانخواستہ حفاظتی سامان نہ ہونے سے کوئی نقصان ہوا تو تلافی نہیں ہوگی، ورکرزکی ہلاکت پر وزیراعلیٰ جاکر معاوضے کا اعلان کر دیتے ہیں، عدالت ایسی چیزوں کی صرف نشاہدہی کرسکتی ہے، قانون سازی کے عملی اقدامات ہر حال میں حکومت نے کرنے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



نصیب کی مکھی


ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…