بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سپریم کورٹ نے پشاور بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے سوالات اٹھا دئیے

datetime 3  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)سپریم کورٹ نے پشاور بی آر ٹی منصوبے کے حوالے سے سوالات اٹھا دئیے۔بدھ کو سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پشاور بی آر ٹی منصوبہ کیس کی سماعت کی اور عدالت نے خیبرپختونخوا حکومت کو التوا مانگنے کے بجائے کیس چلانے کی ہدایت کی تاہم عدالت نے ایف آئی اے کو منصوبے کی تحقیقات سے روکنے کے حکم امتناع میں توسیع کردی۔

دورانِ سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کے پی حکومت کی اپیل کو زیادہ عرصہ حکم امتناع میں نہیں رکھنا چاہتے، حکومت بی آر ٹی کیس کو چلائے اور التوا نہ مانگے۔معزز جج نے ریمارکس دیے کہ بطور عدلیہ منصوبے سے متعلق مخصوص چیزوں کا جائزہ لینا ہے، بی آرٹی منصوبے کی شفافیت کا جائزہ لیں گے اور دیکھیں گے کہ منصوبے کا تعمیراتی ٹھیکہ کیسے دیا گیا، منصوبے میں کہیں مفادات کا ٹکراؤ تو نہیں؟ کے پی حکومت نے کہیں ادھورے منصوبے پر اربوں تو خرچ نہیں کر دیے؟ دیکھنا ہے کہ منصوبے میں غلطیوں کے ازالے کیلئے کیا ہو سکتا ہے؟ عدالت نے سوال اٹھایا کہ بی آر ٹی منصوبہ کہیں بغیر تیاری کے تو شروع تو نہیں کیا گیا؟ منصوبے کے ڈیزائن میں بار بار عوام کے پیسے سے تبدیلی کی گئی، پشاور بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل میں تاخیر کا جائزہ بھی لیں گے۔بعد ازاں عدالت نے کے پی حکومت کے وکیل کی التواء کی درخواست پر سماعت ملتوی کردی۔واضح رہے کہ پشاور ہائیکورٹ نے ایف آئی اے کو بی آر ٹی منصوبے کی تحقیقات کا حکم دیا تھا جس کے خلاف صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور عدالت عظمیٰ نے ایف آئی اے کو تحقیقات سے روک دیا جبکہ کے پی حکومت کے وکیل مخدوم علی خان نے بی آر ٹی منصوبہ کیس کی التواء کی بھی درخواست دی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…