بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

سی پیک منصوبہ ناکام ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نئی امریکی رپورٹ جاری پاک بھارت تعلقات پر کیا کہاگیا؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 26  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی) نئی امریکی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے بارے میں اپنا رد عمل تیار کرتے ہوئے امریکا کو خاص طور پر بھارت اور پاکستان کے درمیان گہری دشمنی کے تناظر میں علاقائی استحکام پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا کو پاکستان میں چین کے ساتھ کس طرح نمٹنا چاہیے کے عنوان سے جاری رپورٹ میں واشنگٹن سے یہ بھی درخواست کی گئی کہ امریکا سی پیک پر رد عمل دیتے ہوئے خطے میں چین کی بڑھتی ہوئی مداخلت سے درپیش طویل المدتی جغرافیائی و سیاسی چیلنجز پر بھی نگاہ رکھے۔

رپورٹ کو تشکیل دینے والے ڈینیئل مارکی کا کہنا تھا کہ سی پیک ناکام نہیں ہوسکتا، یہ سیاسی اور سفارتی طور پر ناممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لپے چین ایک اہم شراکت دار اور لائف لائن ہے جبکہ چین کے لیے سی پیک اس کے ترقیاتی ماڈل اور ایک اہم منصوبے دونوں کی برآمد کے لیے ٹیسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے۔کارنیگی سنگھوا سینٹر فار گلوبل پالیسی واشنگٹن کے چین کے ماہر ڈینیئل مارکی نے پاکستان میں چین کے اثر و رسوخ کا جائزہ لیتے ہوئے بھارت اور پاکستان کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر توجہ دینے کی ضرورت کو نمایاں کیا۔انہوں نے خبردار کیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران بھارت اور پاکستان ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، اس موسم سرما میں ہوسکتا ہے بھارت اور پاکستان کا ایک اور فوجی بحران پیدا ہو۔انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کو جنگ سے روکنے کے لیے ایک ممکنہ سفارتی شراکت دار کے طور پر بیجنگ کے کردار کی تعریف کرے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر چین اور امریکا کے تعلقات میں تناؤ جنوبی ایشیائی بحران کے درمیان تعاون کو روکتا ہے تو تمام فریقین کی شکست ہوگی۔ڈینیئل مارکی نے نشاندہی کی کہ اس وقت واشنگٹن پاکستان کے خلاف بھارتی فوجی حملوں کو‘جواز انگیز ردعمل کے طور پر دیکھتا ہے جبکہ بیجنگ اپنے زیادہ بڑے ہمسایہ ملک کی جارحیت کے لیے پاکستان کی پوری قوت سے ردعمل دینے کی‘ذمہ داری پر زور دیتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی سے خطرناک ہے، امریکا اور چین دونوں کو مستقبل کی نئی دہلی اور اسلام آباد سے سفارتی مصروفیات کو نئے طرز پر لے جانا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تناؤ کو امریکی پالیسی سازوں کے لئے ‘پہلی اور سب سے فوری تشویش‘ ہونا چاہیے تاہم انہیں افغانستان سے مکمل فوجی انخلا کے منصوبوں پر چین کے اثرات پر بھی توجہ دینی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…