پاکستانیوں کیلئے خوشخبری !پاکستان میں کورونا وائرس کا شکار دونوں مریضوں کو خطرے سے باہرقرار دے دیا گیا، مریضوں کے اہلخانہ اور دوستوں کے ٹیسٹ بھی منفی

  جمعہ‬‮ 28 فروری‬‮ 2020  |  11:59

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں کرونا وائرس کے دونوں مریض خطرے سے باہر ۔ اہلخانہ کے ٹیسٹ بھی منفی قرار ۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے شکار دونوں مریضوں کی حالت اب خطرے سے باہر ہے ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس حوالے سے دونوں مریضوں کے اہلخانہ اور دوست احباب کے بھی ٹیسٹ کیے گئے تھے جو منفی آئے ہیں ۔ دوسری جانب پاکستان میں ’’کرونا وائرس‘‘ کے کیس سامنے آنے پر جڑواں شہروں کی انتظامیہ نے جڑواں


شہروں میں جان لیوا اور مہلک ’’کرونا وائرس ‘‘ کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے راولپنڈی و اسلام آبادکے سرکاری ہسپتالوں میں ہائی الرٹ کرتے ہوئے ہسپتالوں کی ایمرجنسی وارڈزاور او پی ڈی میں خصوصی کائونٹر قائم کر کے ہسپتالوں کے اندر آگاہی بینرز اور پمفلٹس لگانے کے علاوہ ’’کرونا وائرس‘‘ سے بچائو کی ہدائیت کردی گئیں ہیں جبکہ ڈاکٹروں ، نرسوںاورپیرا میڈیکل سٹاف کو الرٹ رہنے کی ہدائیت بھی کر دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد کی انتظامیہ نے شہربھر میں دفعہ 144نافذ کرتے ماسک مافیا کے خلاف ذخیرہ اندوزی پر پابندی عائد کر دی ہے جبکہ ادھر ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی حکام نے ’’ آن لائن‘‘ کے رابطہ کرنے پر بتایا توانائی سمیت دیگر شعبوں کے منصوبوں پر کام کرنے والے چینی افسران اوراہلکاروں کی ’’کرونا وائرس‘‘ کے حوالے سے سخت سکریننگ کر رکھی ہوئی ہے اور چینی باشندوں آمد ورفت پر سکریننگ کر رہے ہیں اور ابھی تک کسی بھی چینی باشندہ میںکرونا وائرس کی علامات نہیں پائی گی ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی کے حکام کے مطابق جڑواں شہروں میں’’ کرونا وائرس‘‘ کا کوئی یقینی کیس موجود نہیں ہے اور محکمہ صحت راولپنڈی عام ہسپتالوں میں موجود ڈیٹا کی نگرانی بھی کر رہا ہے تاکہ ’’کرونا وائر س‘‘ کی جلد تشخیص کی جاسکے ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی نے ضلع بھر میں چینی باشندوں کی عام رہائش گاہوں ،دفاتر اور کام کی جگہو ں کا دورہ بھی کیا اور کرونا وائرس کے حوالے سے تفصیلی نگرانی بھی کر رہی ہے جبکہ اس حوالے سے نظیر بھٹو ہسپتال کے ایم ایس محمد رفیق کا کہنا ہے کہ اگرچہ راولپنڈی کے سرکاری ہسپتالوں میں ابھی تک ’’کروناوائرس‘‘ کے ایک مریض کی بھی تصدیق نہیں ہوئی تاہم ’’کرونا وائرس‘‘ ایک جان لیوا وائرس ہے جس سے نمٹنے کیلئے سرکاری ہسپتالوں میں ایمرجنسی الرٹ کرتے ہو ئے تمام اقدامات مکمل کرکے آگاہی مہم شروع کر دی ہے انہوں نے کہا’’ کرونا وائرس‘‘ ایک خطرناک مرض ہے یہ کسی بھی مریض سے دوسرے مریض میں با آسانی منتقل ہوتاہے جس کی علامات میں بار بار چھینکیں،ناک ، آنکھوں سے پانی آنا گلہ خشک ہونا اور جسم میں درد ہوناشامل ہیں انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کا کوئی بھی مریض ہو تو اس کے پاس کھڑا نہیں ہونا چائیں اور اس طرح کی کسی میںبھی علامت ہو تو وہ فوری طور پر اپنے قریبی ہسپتال میں رابطہ کریں تاکہ ابتدائی میں سے ہی اس کو کنٹرول کیا جاسکے انہوں نے کہا کے بے نظیر بھٹوہسپتال میں’’ کرونا وائرس‘‘ کے کسی بھی مریض کی ابھی تک کو ئی تصدیق نہیں ہوئی لیکن پنجاب گورنمٹ کی ہدایت کے مطابق کروناوائرس سے نمٹنے کیلے تمام اقدامات مکمل کرنے کے ساتھ ایمرجنسی الرٹ کر رکھی ہے انہوں نے کہا کہ نزلہ ، زکام ، بخار ، چھاتی کے انفیکشن بڑ جانے کے باعث نمونیہ کی شکل اختیار کر سکتا ہے اور جسم کے باقی حصوں کو نقصان پہنچاتا ہے جس سے پھپھڑے اور سانس میںکو نقصان پہچانے سے مریضوں کی اموات واقع ہو جاتی ہیں انہوں نے کہا کے اس کیلئے احتیاط بہت ضروری ہیں اور گلے کو خشک نہ رکھیں اور تھوڑا تھوا پانی پیتے رہے اور مارچ تک ایسے ہی گرم پانی پیتے رہے اور رش والی جگہوں پر نہ جائیں اور سفر کرتے وقت گھر سے باہر جاتے وقت اور مارکیٹ جاتے وقت ماکس ضرور استعمال کریں اور مصالہ دار اور فرائی فوڈ سے مکمل طور پر گریز کریں اور باہر سے آتے وقت فورا ہاتھ دھوئیں اور سبزیاں اور پھل زیادہ استعمال کریں گوشت سے مکمل طور پر پریز کریں اورنزلہ ، زکام ، بخار، جسم کے در دکی معمولی سی بھی شکایات ہوتو فوری طور پر اپنے قریبی ہسپتال سے رابطہ کریں تا کہ اس کو ابتدا میں ہی کنڑول کیا جاسکے انہوں نے کہا کہ ہم نے ہسپتال کی ایمرجنسی اور اوپی ڈی میںنئے کا?نٹر قائم کئے ہیں اور بینرز اور پفلٹ بھی لگادیں ہیں انہوں نے کہا کہ ہم نے کرونا وائرس سے نمٹنے کیلئے تمام اقدامات کر لیں ہیں اور ہسپتال کا عملہ ہنگامی بنیادوں سے نمٹنے کیلئے ہر وقت تیار ہے اس ضمن میں راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلرو ڈاکٹر محمد عمر نے بتایا کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹر ہسپتال راولپنڈی میں ’’کرونا کاؤنٹر‘‘ جبکہ بے نظیر بھٹو ہسپتال میں 6 بیڈ کاآئی سی یو یونٹ اور 20 بیڈ پر مشتمل آئسولیشن وارڈ قائم کردیا گیا جبکہ ڈی ایچ کیو اور ہولی فیملی میں آنے والے مریضوں میں علامات کی تصدیق پر انھیں آئسولیشن وارڈ میں منتقل کیا جائے گاانہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی تشخیص کے لئے چائنہ سے ریپڈ ٹسٹ کٹ منگوالی گئی ہے جو جلد پاکستان میں دستیاب ہوگی حکومت کی جانب سے محکمہ صحت کو جو ایس او پی دی گئی ہے اس کے مطابق ضرورت پڑنے پر ہولی فیملی میں بھی 80 بیڈ پر مشتمل ’’ڈینگی وارڈ‘‘ کو’’ کرونا وارڈ‘‘ میں تبدیل کیا جا سکے گاعلاوہ ازیں بیڈز کی تعداد میں مزید توسیع کا پلان بھی تیار ہے ڈاکٹر عمر نے کہا کہ خدانخواستہ اگر کوئی کرونا سے متاثرہ مریض آتا ہے تو اس کا فوری علاج شروع کیا جا سکتا ہے آئسولیشن اور آئی سی یو میں کام کرنے والے ڈاکٹرز نرسز اور پیرا میڈیکس کو خصوصی سمینارکے ذریعہ علاج اور دیکھ بھال سمیت دیگر احتیاتی تدابیر سے آگاہ کر دیا گیا ہے اور ان سب ویکسینیشن کردی گئی وائس چانسلر راولپنڈی میڈیکل یونیورسٹی کہا کہ جس طرح ماضی میں سوائن فلو بھی آیا تھا اس میںلائف رسک نہیں تھا لیکن بد قسمتی سے یہ سوائن فلو سے زیادہ خطرناک وائرس ہے جو زندگی کاخاتمہ کر سکتا ہے ڈاکٹر عمر نے بیماری کی علامات بتاتے ہوئے کہا کہ شہری تیز بخار ،کھانسی ،سینے میں درد اور سانس لینے میں دشواری کی شکائیت پر فوری ڈاکٹر سے رجوع کریںانھوںنے کہا کہ راولپنڈی اسلام آباد میں ابھی کوئی ایک کیس بھی کرونا وائرس کے حوالے سے رپورٹ نہیں ہوا شہریوں کو چاہئے کہ وہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔  


موضوعات: