جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

شہر یار آفریدی کی جانب سے مدارس میں منشیات کے استعمال سے متعلق بیان قومی اسمبلی میں شدید احتجاج،فضل الرحمان کے بیٹے نے کھری کھری سنا دیں

datetime 13  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر مملکت برائے انسداد منشیات شہریار آفریدی کی جانب سے مدارس میں منشیات کے استعمال سے متعلق بیان پر قومی اسمبلی میں شدید احتجاج کیا گیا۔جمعرات کو اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہاکہ نوجوانوں اور خاص طور پر ہمارے تعلیمی اداروں میں منشیات پھیل چکی ہے۔

شہریار آفریدی نے کہاکہ منشیات کی روک تھام سے آگہی کے لیے ’زندگی‘ کے نام سے ایپ لانچ کر دی ہے، تمام تعلیمی اداروں اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ بھی بات چیت ہو چکی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہمارے معاشرے میں کافی حد تک منشیات داخل ہو چکی ہے، یہ ایک پارٹی یا حکومت کی بات نہیں اس کے خاتمے کے لیے والدین بھی حصہ لیں۔وزیر مملکت نے کہا کہ ایک مدرسے کے معلم نے کہا کہ منشیات استعمال کریں آپ کا حافظہ درست ہو جائے گا۔شہریار آفریدی کے اس بیان پر ایم ایم اے کے رہنما اور مولانا فضل الرحمان کے صاحبزادے مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آپ نے جھوٹ بولا، ایک مدرسے کے نام پر تمام مدارس کو بدنام نہیں کرنے دیں گے۔مدرسے کا نام لینے پر ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا جس پر شہریار آفریدی نے کہا کہ میں نے کسی مدرسے کا نام نہیں لیا۔وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ سارے معاشرے میں اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں کہیں اچھے لوگ بھی نہیں ہوتے، مدارس نے جو کچھ کیا ہے ہم ان کی قدر کرتے ہیں۔شفقت محمود نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے مدارس کا معیار ایسا ہے کہ دنیا کے لوگ اپنے بچے یہاں بھیجتے ہیں لیکن جہاں جہاں کوئی برائی ہے ہم نے اس برائی کو برا کہنا ہے۔اسعد محمود نے کہا کہ آپ ایک مدرسے کی وجہ سے تمام مدارس کوشک کی نگاہ سے نہیں دکھا سکتے۔

شہریار آفریدی نے غلط بیانی کی ہے، اس ایک مدرسے کو منظر عام پر لایا جائے۔انہوں نے کہاکہ چوہدری نثار نے بھی ایک الزام لگایا تھا، چوہدری نثار نے کہا تھا کہ 98 فیصد مدارس اچھے ہیں لیکن 2 فیصد مدارس دہشت گردی سے منسلک ہیں، انہوں نے کبھی نہیں بتایا کہ وہ دو فیصد مدارس کون سے ہیں۔جے یو آئی ف کے رہنما نے کہا کہ شہریار آفریدی نہیں دکھا سکتے کہ وہ کون شخص ہے، اس شخص کے حوالے سے وفاق المدراس سے رابطہ کیا جائے، ہم خود تحقیقات کر کے اس مدرسے کو منظر عام پر لائیں گے لیکن اس طرح کسی کا نام لے کر سارے مدارس کو نشانہ نہ بنایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…