جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

بچوں کیساتھ زیادتی کے ملزمان کو سر عام پھانسی قومی اسمبلی پیش کی گئی قرارداد کثرت رائے سے منظور کر لی گئی

datetime 7  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کر نے والوں کو سرعام پھانسی دینے کی قرار داد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔جمعہ کو اجلاس کے دور ان وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان کی جانب سے قرارداد پیش کی ۔قرار داد میں کہاگیاکہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بناکر قتل کرنے والوں کو سرعام پھانسی دی جائے۔پیپلز پارٹی کی جانب سے سرعام پھانسی دینے کی مخالفت کی گئی

تاہم قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی ۔ پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ سزائیں بڑھانے سے جرائم کم نہیں ہوتے،اقوامِ متحدہ کے قوانین کے مطابق سرعام پھانسی نہیں دی جاسکتی،پاکستان اقوام متحدہ کا سگنیٹری ہے،ایک اور کیس میں بھی سرعام پھانسی کا فیصلہ آیا تھا اس کا کیا ہوا۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ جب زینب الرٹ بل انسانی حقوق کمیٹی میں بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کا مطالبہ آیا تو اس کی مخالفت کی گئی۔ وزیر مملکت علی محمد خان نے کہاکہ قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کمیٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہیں ۔علی محمد خان نے کہاکہ حکومت اب بھی بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کا قانون بنانا چاہتی ہے۔ علی محمد خان نے کہاکہ اپوزیشن بتائے وہ بچوں سے زیادتی کے ملزمان کو سزائے موت کے بل کی حمایت کرنے کو تیار ہے۔ علی محمد خان نے کہاکہ این جی اوز سرعام سزائے موت کی مخالف ہے۔ عمران خٹک نے کہاکہ بچوں سے زیادتی کے مجرمان کو سرعام سزائے موت دینے کی قرارداد منظور کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…