پیر‬‮ ، 31 مارچ‬‮ 2025 

وزیراعظم بھی گندم کی خریداری کے سسٹم سے واقف نہیں ہیں،یہ ایشو جہانگیر ترین کے حوالے کر دیا،فیڈرل سیکرٹری فوڈ سے لے کر پنجاب

datetime 24  جنوری‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’وہ لوگ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔یہ سسٹم معمول کے مطابق چل رہا تھا لیکن پھر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آ گئی‘ یہ لوگ ناتجربہ کار تھے‘ عثمان بزدار اور محمود خان نے ضلعی حکومت تک نہیں چلائی تھی چناں چہ انہوں نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو بھی اتھل پتھل کر دیا‘ وفاق میں آفس مینجمنٹ گروپ کے

افسر ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی کو سیکرٹری فوڈ سیکورٹی لگا دیا گیا‘ یہ شریف اور ایمان دار افسر ہیں لیکن انہوں نے کبھی فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں کام نہیں کیا ‘ یہ سسٹم کو سرے سے نہیں جانتے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 16 ماہ میں پانچ بار صوبائی سیکرٹری فوڈ تبدیل کر دیے‘ راولپنڈی کا ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ انتہائی اہم ہوتا ہے کیوں کہ بلتستان‘آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر موجود فوجی جوانوں کو آٹا بھی راولپنڈی سے سپلائی ہوتا ہے‘ عثمان بزدار نے اس پوسٹ سے تجربہ کار افسر ہٹا کر یہ پوزیشن 16 گریڈ کے ایک ٹیچرسلمان علی کے حوالے کر دی‘ سلمان علی پڑھے لکھے اور سمجھ دار ہوں گے لیکن یہ فوڈ کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں جب کہ پنجاب کے سیکرٹری فوڈ اس وقت ظفر نصر اللہ ہیں۔ان کی شہرت بھی اچھی نہیں‘ میاں شہباز شریف نے دس سال کی مدت میں انہیں پنجاب میں گھسنے نہیں دیا تھا جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انہیںاس نازک پوسٹ پر لگا دیا‘ وزیراعظم بھی گندم کی خریداری کے سسٹم سے واقف نہیں ہیں چناں چہ انہوں نے یہ ایشو جہانگیر ترین کے حوالے کر دیا اور فیڈرل سیکرٹری فوڈ سے لے کر پنجاب‘ کے پی کے اور بلوچستان کا فوڈ ڈیپارٹمنٹ براہ راست جہانگیر ترین کے کنٹرول میں چلا گیا‘ میٹنگ تک وزیراعظم کے ایڈوائزر شہزاد ارباب بلاتے ہیں اور جہانگیر ترین ان کے دفتر میں صدارتی کرسی پر بیٹھ کر فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسروں اور سیکرٹری کو ہدایات جاری کر تے ہیں چناں چہ آپ جس زاویے سے بھی دیکھیں آپ کو جہانگیر ترین اس صورت حال کے مرکزی کردار ملیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ


میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…

تیسری عالمی جنگ تیار

سرونٹ آف دی پیپل کا پہلا سیزن 2015ء میں یوکرائن…