جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

وزیراعظم بھی گندم کی خریداری کے سسٹم سے واقف نہیں ہیں،یہ ایشو جہانگیر ترین کے حوالے کر دیا،فیڈرل سیکرٹری فوڈ سے لے کر پنجاب

datetime 24  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر کالم نگار جاوید چودھری اپنے کالم ’’وہ لوگ وزیراعظم کے ساتھ بیٹھے ہیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔یہ سسٹم معمول کے مطابق چل رہا تھا لیکن پھر پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آ گئی‘ یہ لوگ ناتجربہ کار تھے‘ عثمان بزدار اور محمود خان نے ضلعی حکومت تک نہیں چلائی تھی چناں چہ انہوں نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو بھی اتھل پتھل کر دیا‘ وفاق میں آفس مینجمنٹ گروپ کے

افسر ڈاکٹر محمد ہاشم پوپلزئی کو سیکرٹری فوڈ سیکورٹی لگا دیا گیا‘ یہ شریف اور ایمان دار افسر ہیں لیکن انہوں نے کبھی فوڈ ڈیپارٹمنٹ میں کام نہیں کیا ‘ یہ سسٹم کو سرے سے نہیں جانتے۔وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 16 ماہ میں پانچ بار صوبائی سیکرٹری فوڈ تبدیل کر دیے‘ راولپنڈی کا ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ انتہائی اہم ہوتا ہے کیوں کہ بلتستان‘آزاد کشمیر اور خیبر پختونخواہ کے ساتھ ساتھ سرحدوں پر موجود فوجی جوانوں کو آٹا بھی راولپنڈی سے سپلائی ہوتا ہے‘ عثمان بزدار نے اس پوسٹ سے تجربہ کار افسر ہٹا کر یہ پوزیشن 16 گریڈ کے ایک ٹیچرسلمان علی کے حوالے کر دی‘ سلمان علی پڑھے لکھے اور سمجھ دار ہوں گے لیکن یہ فوڈ کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہیں جب کہ پنجاب کے سیکرٹری فوڈ اس وقت ظفر نصر اللہ ہیں۔ان کی شہرت بھی اچھی نہیں‘ میاں شہباز شریف نے دس سال کی مدت میں انہیں پنجاب میں گھسنے نہیں دیا تھا جب کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے انہیںاس نازک پوسٹ پر لگا دیا‘ وزیراعظم بھی گندم کی خریداری کے سسٹم سے واقف نہیں ہیں چناں چہ انہوں نے یہ ایشو جہانگیر ترین کے حوالے کر دیا اور فیڈرل سیکرٹری فوڈ سے لے کر پنجاب‘ کے پی کے اور بلوچستان کا فوڈ ڈیپارٹمنٹ براہ راست جہانگیر ترین کے کنٹرول میں چلا گیا‘ میٹنگ تک وزیراعظم کے ایڈوائزر شہزاد ارباب بلاتے ہیں اور جہانگیر ترین ان کے دفتر میں صدارتی کرسی پر بیٹھ کر فوڈ ڈیپارٹمنٹ کے افسروں اور سیکرٹری کو ہدایات جاری کر تے ہیں چناں چہ آپ جس زاویے سے بھی دیکھیں آپ کو جہانگیر ترین اس صورت حال کے مرکزی کردار ملیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…