’’ آپ کو اللہ کا واسطہ ہے میری بیٹیاں ہیں‘‘ پنجاب حکومت کی بنائی گئی 56 کمپنیوں میں ایک بھی نہیں رہے گی کوئی کام ڈھونڈ لیں اور گھر جائیں ، چیف جسٹس نےبڑا حکم جاری کر دیا

  جمعہ‬‮ 17 جنوری‬‮ 2020  |  17:21

اسلام آباد (آن لائن)سپریم کورٹ میں ڈپٹی جنرل منیجر لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی نوکری پر بحالی کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ پنجاب حکومت کی 56 بنائی گئی کمپنیوں میں سے ایک کمپنی ہے، اب ان کمپنیوں میں کوئی نہیں رہے گا،یہ ساری کمپنیاں ختم ہو جائیں گی۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس کیسربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ محمد حنیف لاہور پرائیویٹ کمپنی لمیٹڈ میں بطور ڈپٹی منیجر کام کر رہا تھا جسے رول کے بغیر نکال


دیا،نوکری کا صرف ایک سال رہ گیا ہے،جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جس عہدے پر کام کررہے تھے وہ عہدہ ہی ختم ہو گیا، درخواست گزار صرف مالی نقصانات کا تقاضا کر سکتا ہے۔اس موقع پر درخواست گزار عدالت میں جذباتی ہو گیا اس نے چیف جسٹس سے التجا کی کہ اس نے کوئی کرپشن نہیں کی کوئی چوری نہیں کی، آپ کو اللہ کا واسطہ ہے میری بیٹیاں ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ یہاں جذباتی باتوں کا کوئی فائدہ نہیں ۔درخواست گزار کوئی اور کام ڈھونڈ لے ،ان کمپنیوں کے اب سب لوگ گھر جائیں گے،پنجاب کی ان 56 کمپنیوں میں سے اب ایک کمپنی بھی نہیں بچے گی۔عدالت نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کی ذیلی کمیٹی کو محمد حنیف کا کیس دوبارہ دیکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے محمد حنیف کی طرف سے نوکری پر بحالی کی درخواست خارج کرتے ہوئے معاملا نمٹا دیا ہے۔


موضوعات:

زیرو پوائنٹ

قاسم پاشا کی گلیوں میں

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎

آیا صوفیہ کے سامنے دھوپ پڑی تھی‘ آنکھیں چندھیا رہی تھیں‘ میں نے دھوپ سے بچنے کے لیے سر پر ٹوپی رکھ لی‘ آنکھیں ٹوپی کے چھجے کے نیچے آ گئیں اور اس کے ساتھ ہی ماحول بدل گیا‘ آسمان پر باسفورس کے سفید بگلے تیر رہے تھے‘ دائیں بائیں سیکڑوں سیاح تھے اور ان سیاحوں کے درمیان ....مزید پڑھئے‎