ہفتہ‬‮ ، 24 جنوری‬‮ 2026 

پاکستانی ایران کی مدد کیلئے پہنچنے لگے، قدس فورس کے لشکر میں بڑی تعداد میں پاکستانی نوجوان شامل

datetime 8  جنوری‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)معروف صحافی جاویدچوہدری اپنے کالم’’پلیز امریکا کو انکار کردیں‘‘ میں لکھتے ہیں کہ ۔۔۔ ایران نے کسی دور میں تگڑی فوج‘ مال ودولت‘ زراعت‘ انصاف اور امن و امان کو ہاتھ سے نہیں جانے دیا‘ یہ اس ریاست کا وہ کمال ہے جس کی وجہ سے ایران خوف ناک عالمی پابندیوں کے باوجود نہ صرف سلامت ہے بلکہ یہ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بھی کھڑا ہے۔

اس نے مشکل ترین حالات میں بھی امن وامان‘ انصاف‘ زراعت‘ مال ودولت اور فوج کو کم زور نہیں ہونے دیا۔ایران کا موجودہ نظام دو حصوں میں تقسیم ہے‘ سیاسی اور مذہبی‘ ایران کی سیاسی حکومت صدر کے زیر انتظام چلتی ہے‘ ریگولر آرمی ارتش کہلاتی ہے اور اس کا سربراہ کمانڈر انچیف ہوتا ہے‘ ارتش کا کامملکی سرحدوں کی حفاظت ہوتا ہے جب کہ ملک کی مذہبی حکومت آیت اللہ کے ماتحت ہوتی ہے۔یہ ایران سمیت پوری دنیا کی شیعہ کمیونٹی کے روحانی سربراہ ہوتے ہیں‘ ان کی اپنی فوج ہوتی ہے‘ یہ فوج پاس داران انقلاب یعنی اسلامک ریولوشنری گارڈکارپس (آئی آر جی سی) کہلاتی ہے‘ یہ مجاہدین کی فورس ہے اور یہ براہ راست آیت اللہ کو جواب دہ ہوتی ہے‘ پاس داران کے دو حصے ہیں‘ گراؤنڈ فورسزاور قدس فورس‘ پاس داران کی دوسری فورس ”قدس بریگیڈ“ ایرانی سرحدوں سے باہر آپریٹ کرتی ہے‘ مثلاً شام‘ عراق اور یمن میں لڑنے والی شیعہ فورس کا تعلق قدس بریگیڈ سے ہوتا ہے۔اس بریگیڈ میں بھی دو قسم کے لشکر ہیں‘ زینب یون اور فاطمہ یون‘ زینب یون کے جوان پاکستان سے بھرتی کیے جاتے ہیں‘ یہ پارہ چنار‘ گلگت‘ سکردو اور بلوچستان کے سرحدی علاقوں سے لیے جاتے ہیں‘ ایران میں انہیں ٹریننگ دی جاتی ہے اور پھر انہیں لڑنے کے لیے شام‘ عراق اور یمن بھجوا دیا جاتا ہے جب کہ فاطمہ یون کے لیے جوان افغانستان سے بھرتی ہوتے ہیں۔

جنرل قاسم سلیمانی قدس بریگیڈ کے سربراہ تھے‘ یہ 21برسوں سے پاس داران انقلاب کا حصہ تھے۔یہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران کی مضبوط ترین شخصیت تھے‘ ایران کے گوریلا فوجی ان کی سربراہی میں شام‘ یمن اور عراق میں لڑ رہے ہیں‘ جنرل قاسم سلیمانی نے پچھلے پانچ برسوں میں امریکا کو شام میں ناک سے چنے چبوا دیے‘ یہ عراق اور یمن میں بھی امریکا اور سعودی عرب کو لے کر بیٹھ گئے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تہران میں کیا دیکھا(دوم)


مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…