جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

اپوزیشن اگر مہنگائی اور بیروزگاری کیخلاف نکلتی تو میں بھی ان کے جلوس میں شامل ہوتا، شیخ رشید ،مشرف فیصلے پر کھل کر اظہار خیال

datetime 25  دسمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی (آن لائن) وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ اپوزیشن اگر مہنگائی اور بیروزگاری کیخلاف نکلتی تو میں بھی ان کے جلوس میں شامل ہوتا، پیپلز پارٹی راولپنڈی میں جلسہ ضرور کرے مگر یہ لوگ اپنی لوٹی ہوئی دولت بچانے کے لئے نکلے ہیں۔

عمران خان نہیں بلکہ اپوزیشن کی سیاست گھر جا رہی ہے، دنیا کے کسی قانون میں نہیں کہ ایک لاش کو تین دن تک لٹکانے کا فیصلہ دیاجائے، عدلیہ کا احترام کرتے ہیں مگر یہ فیصلہ مجھے کھٹک رہاہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں کوئی شکست نہیں دے سکتا کیونکہ ہماری بیٹیاں پڑھی لکھی ہیں اور پاکستان بھر میں راولپنڈی لڑکیوں کی تعلیم میں پہلے نمبر پر ہے، ہم یہ ثابت کریں گے کہ ہم سیاست میں بھی نمبرون ہیں اور راولپنڈی آج بھی سیاست کے حوالے سے بھی بہت اہم شہر ہے، راولپنڈی میں پاکستان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول ہے۔ دوسری طرف ہمارا تمام ڈپلومیٹ اسلام آباد میں ہے جس کے دامن میں راولپنڈی ہے۔ انہوں نے کہا کہ راولپنڈی نے ہمیشہ چوروں، لٹیروں، ڈاکوئوں اور منی لانڈرنگ کرنے والوں کو شکست دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ آزادی صحافت کے لئے باہر نہیں نکلے بلکہ لوٹی دولت بچانے کے لئے باہر نکل رہے ہیں اگر یہ لوگ مہنگائی اور بیروزگاری کے لئے باہر نکلتے تو میں بھی ان کے جلو میں شامل ہو جاتا۔ یہ اپوزیشن والے اپنی دولت بچانے کے لئے چیخ چلا رہے ہیں تاکہ ان سے لوٹی گئی دولت کا کوئی نہ پوچھے اگر ان کااحتساب نہ ہوا تو جمہوریت نامکمل رہے گی۔

عمران خان کا نام احتساب خان ہے کیونکہ وہ لوٹی ہوئی دولت واپس لینا چاہتا ہے۔ انہوںنے اعتراف کیا کہ آج ملک میں مہنگائی اور بیروزگاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مسیحی بھائیوں کے لئے خصوصی ٹرین چلائی مگر پھر بھی جگہ کم پڑ گئی اور ان کو چھتوں پر بیٹھ کر جانا پڑا جس پر میں ان سے معافی چاہتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹرین یکم جنوری تک چلے گی، سڑکوں پر دھند ہونے کے باوجود ہماری 138ٹرینیں چل رہے ہیں جو ایک ریکارڈ ہے ۔

عمران خان کے دور میں ریلوے نمبر ون بنے گا اور تین چار ماہ میں اس کی ایسی بنیاد رکھی جائے گی کہ دنیا میرے مرنے کے بعد بھی میرے کام کو یاد رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت بہت حساس حالات چل رہے ہیں میں نہ پنڈت ہوں نہ جوتشی ہوں مگر جب اپوزیشن کے چہرے دیکھتا ہوں تو ان کے کرتوت پڑھ لیتا ہو ںاور آج پھر کہتا ہوں کہ یہ کل جا رہے ہیں۔ بلاول نے خط میں لکھا ہے کہ ہمیں پکڑا گیا تو ہم خوفناک بن جائیں گے ہمیں کسی نے چھوا تو ہم سارے ملک میں چھوت لگا دیں گے اور بلاول نے کہا ہے کہ مجھے پانچ جنوری تک مہلت دی جائے، 23 سال کے بچے نہیں ہوتے مگر یہ ساری عمر بچے ہی رہیں گے ۔

اس لئے کہتا ہوں کہ بچ کے رہو۔ اگر بچے ہو تو بچ کے کھیلو۔ انہوں نے کہا کہ ہم عدلیہ کے ساتھ کھڑے ہیں جب عدلیہ ختم ہو جاتی ہے تو جنگل کا قانون آجاتا ہے اور ہمیں عدلیہ کے تلخ فیصلے بھی قبول ہیں اور ہم اسے بھی انصاف سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک فیصلہ جو مجھے کھٹک رہا ہے وہ کہتا چاہتاہوں کہ دنیا کے کسی بھی انصاف کے نظام میں کو لاش کو لٹکایا نہیں جاتا، گھسیٹا نہیں جاتا اور تین دن تک لٹکایا نہیں جاتا باقی عدلیہ نے جو بھی فیصلہ دینا ہے دے مگر ایسے فیصلے نہ دے۔

ہم راولپنڈی میں بلاول کو جلسہ کرنے پر ویلکم کرتے ہیں مگر جب آپ راولپنڈی آئیں گے تو میں لاڑکانہ جلسہ کرنے آئوں گا۔ میں پیپلز پارٹی کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم شرافت کی سیاست کرتے ہیں اور آپ ہمارے لئے قابل احترام ہیں آپ ضرور جلسہ کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ رانا ثناء اللہ اور احسن اقبال کے مسئلے پر لیگل ٹیم جواب دے گی۔ مگر آپ یہ جان لیں کہ عمران خان نہیں بلکہ آپ کی سیاست جا رہی ہے۔ ہمارے سٹائل آپ کی وجہ سے ہیں اگر پیپلز پارٹی اور (ن) لیگ نے نہ لوٹا ہوتا تو آج مہنگائی اور بیروزگاری نہیں ہوتی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…