جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

آرمی چیف و وزیراعظم کی اہم ملاقات، فیصلے میں استعمال ہونے والے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہیں، پاک فوج کا شدید ردعمل سامنے آ گیا

datetime 19  دسمبر‬‮  2019 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق صدر و آرمی چیف جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کے بعد پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کیخلاف فیصلے پر جن خدشات کا اظہار کیا گیا، وہ اب درست ثابت ہو رہے ہیں، آٗئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل کا خصوصی عدالت کے تفصیلی فیصلے کے ببعد انتہائی اہم پریس کانفرنس میں کہا کہ افواج پاکستان صرف ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان ہے۔

ہم اپنے ادارے کی عزت کروانا بھی خوف جانتے ہیں لیکن ہمارے لیے ملک سب سے مقدم ہے۔انہوں نے کہاکہ افواج پاکستان پر اپنا اعتماد رکھیں ہم کسی صورت ملک میں انتشار نہیں پھیلنے دیں گے، میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ پاکستان کو داخلی طور پر کمزور کرنے کی کوششیں ہوتی رہیں اور اب بھی ہو رہی ہیں، ان حالات میں چند لوگ اندرونی اور بیرونی حملوں سے ہمیں اشتعال دلاتے ہوئے آپس میں لڑانا چاہتے ہیں اور اس طریقے سے وہ پاکستان کو شکست دینے کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن وہ اس میں کامیاب نہیں ہوسکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ سنائے جانے والے فیصلہ میں خاص طور پر اس میں استعمال ہونے والے الفاظ انسانیت، مذہب، تہذیب اور اقدار سے بالاتر ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم ملکی سلامتی کو قائم رکھنے اور اس کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے حلف بردار ہیں اور ایسا ہم نے گزشتہ 20 برس میں عملی طور پر کر کے دکھایا ہے کہ وہ کام جو دنیا کا کوئی ملک کوئی فوج نہ کرسکی وہ پاکستان، پاک فوج نے اپنے عوام کی مدد سے مکمل کیا۔میجرجنرل آصف غفور نے کہاکہ ماضی میں کئی پریس کانفرنسز میں جنگ کی نوعیت پر بات کی کہ ہم روایتی جنگ سے نیم روایتی جنگ اور پھر آج ہائبرڈ وار کا سامنا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جنگ کی اس بدلتی ہوئی نوعیت کا بھرپور احساس ہے، اس میں دشمن، اس کے سہولت کار، آلہ کار، ان کا کیا ڈیزائن ہوسکتا ہے، وہ کیا چاہتے ہیں ان سب کی بھی ہمیں سمجھ ہے۔انہوں نے کہا کہ اس فیصلے پر چیف آف آرمی سٹاف قمر جاوید باجوہ کی وزیراعظم عمران خان سے تفصیلی بات چیت ہوئی ہے اور اس گفتگو کے بارے حکومت ہی آپ کو آگاہ کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…