جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی ویزا انٹرویوز روک دئیے

datetime 27  اگست‬‮  2026 |

واشنگٹن (این این آئی)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں میں ویزا انٹرویوز عارضی طور پر روکنے یا دوبارہ مقرر کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق یہ اقدام قونصلر افسران کی عالمی تربیتی مہم کے لیے کیا گیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ویزا سروسز کے شیڈول میں تبدیلی تربیتی پروگرام کے مطابق کی جائے گی تاہم یہ عمل کب تک جاری رہے گا، اس کی کوئی حتمی مدت نہیں بتائی گئی، تربیت کا مقصد ایسے درخواست گزاروں کی بہتر جانچ کرنا ہے جن کے بارے میں خدشہ ہو کہ وہ مستقبل میں امریکی سرکاری مراعات پر انحصار کر سکتے ہیں جبکہ تمام ویزا درخواستوں کا جامع اور یکساں جائزہ بھی یقینی بنایا جائے گا۔

متعدد تارکینِ وطن ویزا درخواست گزاروں کو امریکی سفارت خانوں اور قونصل خانوں سے ای میلز موصول ہوئی ہیں جن میں بتایا گیا ہے کہ ان کے طے شدہ انٹرویوز دوبارہ مقرر کیے جا رہے ہیں اور نئی تاریخ سے متعلق بعد میں آگاہ کیا جائے گا۔ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے دوسرے دورِ صدارت میں غیر قانونی اور قانونی دونوں طرح کی امیگریشن کے خلاف سخت اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات میں ویزے اور گرین کارڈ منسوخ کرنا اور مختلف وجوہات کی بنیاد پر درخواستیں مسترد کرنا بھی شامل ہے جن میں سیاسی خیالات اور فلسطین کے حق میں احتجاج بھی شامل ہیں۔انتظامیہ نے رواں ہفتے ایچ-1 بی ویزا پروگرام میں بڑی تبدیلی کی ایک نئی تجویز پر بھی جائزہ شروع کیا ہے۔

یہ پروگرام لاکھوں پیشہ ور افراد سمیت غیر ملکی ماہرین کے لیے امریکا میں ملازمت کا اہم راستہ ہے، تجویز کو معاشی طور پر اہم قرار دیا گیا ہے کیونکہ اس کے سالانہ اقتصادی اثرات کم از کم 100 ملین ڈالر ہونے یا معیشت، ملازمتوں، پیداوار، مسابقت یا کسی بڑے اقتصادی شعبے پر نمایاں اثر پڑنے کا امکان ہے۔ٹرمپ انتظامیہ تقریبا 200,000 ایسے غیر ملکیوں کے ویزے بھی منسوخ کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے جو سیاحت یا کاروبار کے لیے امریکا گئے تھے لیکن بعد میں قیام بڑھانے کے لیے پناہ کی درخواست دے چکے ہیں۔ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امیگریشن کے خلاف یہ کارروائی ملکی سلامتی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے تاہم اس پالیسی کو قانونی رکاوٹوں کا بھی سامنا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے ایک امریکی جج نے 75 ممالک کے شہریوں کو تارکین وطن ویزوں کے اجرا پر پابندی کی انتظامی پالیسی مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کے پاس ایسا حکم جاری کرنے کا قانونی اختیار نہیں تھا۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسی کو امتیازی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے آزادی اظہار اور قانونی طریقہ کار کے حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔

تنظیموں کے مطابق اس پالیسی کے باعث امریکا میں نسلی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا ہوا ہے اور انہیں نسلی بنیادوں پر جانچ پڑتال کا خدشہ ہے۔یاد رہے کہ ٹرمپ نے 2024 کی انتخابی مہم میں غیر قانونی امیگریشن روکنے کا وعدہ کیا تھا تاہم ان کی انتظامیہ نے قانونی امیگریشن بھی مشکل بنا دی ہے جس میں بعض ورک ویزا درخواست گزاروں پر نئی اور بھاری فیس عائد کرنا شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…