جمعہ‬‮ ، 27 فروری‬‮ 2026 

ہم 72 سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر پہلی بار آرمی چیف کی مدت ملازمت پرقانون بنائیں گے،کل سے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ بھی تنازع بن جائے گا، کیا اِن ہاؤس تبدیلی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا اور پارلیمنٹ کے فیصلے سپریم کورٹ کے پاس کیوں جا رہے ہیں؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

جنت میں حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہ السلام جب دو ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے قانون متعارف کرا دیا‘ فرمایا گیا تم اب اس درخت کا پھل نہیں کھاؤ گے‘ وجہ پوچھی تو بتایا تم اب اکیلے نہیں ہو‘ تم اب خاندان‘ تم اب معاشرہ ہو اور کوئی معاشرہ‘ کوئی خاندان قانون کے بغیر نہیں چل سکتا، اللہ نے یہ فیصلہ آج سے لاکھوں سال پہلے کر دیا تھا لیکن ہم یہ ملک قانون کے بغیر چلانے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں‘

آپ باقی باتیں چھوڑ دیں آپ صرف دو تازہ ترین مثالیں لے لیں‘ ملک میں 72 سال سے آرمی چیف مقرر ہو رہے ہیں لیکن ہمیں پچھلے ہفتے پتا چلا قانون میں کسی آرمی چیف کی مدت ملازمت‘ ایکسٹینشن‘ ری ایمپلائمنٹ‘ مراعات اور تنخواہ کا ذکر ہی موجود نہیں لہٰذا ہم 72 سال بعد سپریم کورٹ کے حکم پر پہلی بار یہ قانون بنائیں گے‘ دوسری مثال الیکشن کمیشن ہے‘ یہ ملک کا مقتدر ترین آئینی ادارہ ہے‘ اس کے چار ممبر اور ایک چیف الیکشن کمشنر ہوتا ہے‘ ارکان اور چیف کا تعین وزیراعظم اور اپوزیشن مل کر کرتے ہیں‘ ان میں اتفاق رائے نہ ہو سکے تو پارلیمانی کمیٹی فیصلہ کرتی ہے اور اگر یہ بھی فیصلہ نہ کر سکے تو پھر اچانک آئین خاموش ہو جاتا ہے، اس سے آگے ڈیڈ اینڈ آ جاتا ہے‘یہ ڈیڈ اینڈ بھی آ چکا ہے لہٰذا اپوزیشن کے گیارہ ارکان نے آج اس مسئلے کے حل کے لیے بھی سپریم کورٹ سے رابطہ کر لیا، کل چیف الیکشن کمشنر کا آخری دن ہے، ان کے جاتے ہی الیکشن کمیشن غیر فعال ہو جائے گا، سندھ اور بلوچستان کے ارکان 11ماہ سے اپوزیشن اور حکومت کے درمیان وجہ نزع بنے ہوئے ہیں‘ کل سے چیف الیکشن کمشنر کا عہدہ بھی تنازع بن جائے گا‘ مجھے لگتا ہے کسی دن اگر وزیراعظم اور صدر کے عہدوں کا کھاتا بھی کھل گیا تو پتا چلے گا آئین میں ان کی گنجائش بھی موجود نہیں‘ آپ دیکھ لیجیے ہم کس طرح پہیوں کے بغیر گاڑی چلا رہے ہیں، کیا حکومت نے آصف علی زرداری کو بھی ملک سے باہر بھجوانے کا فیصلہ کر لیا‘ کیا اِن ہاؤس تبدیلی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا اور پارلیمنٹ کے فیصلے سپریم کورٹ کے پاس کیوں جا رہے ہیں‘یہ اہلیت کی کمی ہے یا بدنیتی۔



کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…