جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

وحید ڈوگر نے جائیدادوں کی نشاندہی کی ، کوئی دستاویزات نہیں دیں ،وکیل جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ،دلائل کب مکمل کرینگے؟بتا دیا

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس معاملہ پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہا ہے کہ وحید ڈوگر نے جائیدادوں کی نشاندہی کی ، کوئی دستاویزات نہیں دیں ، شکایت کیساتھ مواد فراہم کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کوشش کرونگا دو سے تین دن میں دلائل مکمل کر لوں جبکہ بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاہے کہ کیس کی وجہ سے عدالتی کام بہت متاثر ہو رہا ہے، عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس لیے فل کورٹ بیٹھی ہے،ججز کی نگرانی ، جاسوسی، کردار کشی پر دلائل سنیں گے۔ بدھ کو سپریم کورٹ میں صدارتی ریفرنس معاملہ پر جسٹس فائز عیسی اور دیگر کی درخواستوں پر سماعت کے دور ان دلائل دیتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے کہاکہ وحید ڈوگر نے تین ججز کی بیرون ملک جائیدادوں کی شکایت کی، ڈوگر نے جائیدادوں کی نشاندہی کی لیکن کوئی دستاویزات نہیں دیں۔منیر اے ملک نے کہاکہ ایسی شکایت صدر یا جوڈیشل کونسل کو ملتی تو باہر پھینک دی جاتی، وحید ڈوگر نے شکایت صدر کے بجائے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کو دی۔ انہوںنے کہاکہ شکایت کو سنجیدہ لیکر کاغذ پورے کرنے کی کوشش کی گئی۔ جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہاکہ وحید ڈوگر کتنا پڑھا لکھا ہے؟۔وکیل جسٹس قاضی عیسیٰ عائز نے کہاکہ میری نظر میں وحید ڈوگر پراکسی ہے۔ جسٹس مظہر عالم نے کہاکہ صدر کو ججز کیخلاف شکایت کا علم کب ہوا؟ ۔ منیر اے ملک نے کہاکہ وزیراعظم کی ایڈوائس ملنے پر ہی صدر کو علم ہوا۔

وحید ڈوگر کو فریق بنایا تھا لیکن اس نے جواب جمع نہیں کرایا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ آپ کے مطابق ڈوگر کو کاغذی کارروائی کیلئے سامنے لایاگیا۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہاکہ دستاویزات موجود ہوتی تو وزارت قانون خود شکایت بھجوا دیتی۔ جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ بعض اوقات ڈرائیورز بھی بتا دیتے ہیں کہ صاحب چھٹیاں گزارنے کہاں جاتے ہیں۔منیر اے ملک نے کہا کہ شکایت کیساتھ مواد فراہم کرنا متعلقہ شخص کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

کوشش کرونگا دو سے تین دن میں دلائل مکمل کر لوں۔جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہاکہ اس کیس کی وجہ سے عدالتی کام بہت متاثر ہو رہا ہے، عدلیہ کی آزادی کا معاملہ ہے اس لیے فل کورٹ بیٹھی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ججز کی نگرانی ، جاسوسی، کردار کشی پر دلائل سنیں گے۔ رضا ربانی نے کہاکہ جسٹس کے کے آغا کے ریفرنس پر بھی دلائل دوں گا۔ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کے کے آغا نے درخواست دائر نہیں کی، تعین کرینگے ریفرنس آگے چلنا ہے یا یہاں ختم ہونا ہے۔ وکیل سندھ بار کونسل رضا ربانی نے کہاکہ ریفرنس کالعدم ہونا چاہیے۔ بعد ازاں سماعت 16 دسمبر تک ملتوی کر د ی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…