جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

دواسازکمپنیوں کا قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار ،دوائوں کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے عدالت چلی گئیں

datetime 4  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن )وزیراعظم کی ہدایات کے باوجود دوائوں کی قیمتوں میں کمی نہیں آسکی ،سی ای او ڈریپ کے مطابق 15 سے زائد کمپنیاں دواں کی قیمتیں کم کرنے کے بجائے عدالت چلی گئیں ہیں . قومی اسمبلی کی ذ یلی کمیٹی برائے صحت کا اجلاس کنوینر نثار چیمہ کی صدارت میں ہوا ۔

جس میں ادویہ ساز اداروں نے ادویات کی قیمتوں پر بریفنگ دینے سے انکار کر دیا جبکہ ان کی ایسوسی ایشن پی پی ایم اے نے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا،ڈریپ حکام کا کہنا تھا15 کمپنیوں نے سندھ ہائی کورٹ سے حکم امتناعی حاصل کر لیا ہے .کمیٹی کے رکن کمیٹی رمیش لال نے کہا کہ ان کمپنیوں کو نوٹس جاری کیا جائے جن کی وجہ سے سیاستدان بدنام ہورہے ہیں ، اسلام آباد میں مختلف پرائیویٹ میڈیکل اسٹورز عوام کو لوٹ رہے ہیں ،اسلام آباد انتظامیہ دھیان نہیں دے رہی، ایسے میڈیکل اسٹورز کے خلاف کارروائی کی جائے . دوسری جانب وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ جعلی ادویات کا دھندا کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں، ملک کو جعلی وغیرقانونی، غیرمعیاری ادویات سے پاک کریں گے .وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ایف 10 میں سینئر ڈرگ انسپکٹر نے ادویات کیغیر قانونی گودام پر چھاپہ مارا، 65 غیرقانونی و اسمگلڈ ادویات کا اسٹاک ضبط کر کے گودام کو سیل کر دیا گیا . معاون خصوصی برائے صحت نے کہا کہ قانون شکن عناصرکے خلاف ڈریپ ایکٹ کے تحت کارروائی ہوگی، جعلی ادویات کا دھندا کرنے والے انسانیت کے دشمن ہیں ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ملک کو جعلی وغیرقانونی، غیرمعیاری ادویات سے پاک کریں گے .

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے جعلی، غیر رجسٹرڈ اور غیرقانونی دواں کے خلاف جڑواں شہروں میں کریک ڈان کے دوران کروڑوں روپے کی دوائیں برآمد کرکے گودام سیل کر دیے تھیمعاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ دوائیں جانوروں کے لیے استعمال ہونے والے اجزاسے بنائی جا رہی تھیں اور فیکٹری بھی گھر میں لگائی گئی تھی . ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا تھا کہ ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اگر غیرملکی پراڈکٹس کی رسیدیں فراہم کرنے میں ناکام رہے تو قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…