جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

واجبات کی عدم ادائیگی اور ناقص ڈیزائن۔۔۔!!! سی پیک پر کام تاخیر کا شکارہوگیا

datetime 3  دسمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے مواصلات کو آگاہ کیا گیا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کا اہم مغربی روٹ، جسے رواں ماہ مکمل ہوجانا تھا وہ حکام کی کوتاہی کا شکار ہوگیا ہے اور واجبات کی عدم ادائیگی اور کچھ تکنیکی وجوہات کے باعث 110 ارب ڈالر کے منصوبے پر کام تعطل کا شکار ہے۔

رپورٹ کے مطابق نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے) جو اس منصوبے کی عملدرآمد کروانے والی ایجنسی ہے، اس نے شکایت کی تھی کہ حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت مختص کیے گئے تمام فنڈ جاری نہیں کیے کیونکہ وزارت خزانہ نے انفرااسٹرکچر اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اتھارٹیز کے ذریعے حاصل کردہ 15 کھرب روپے کے قرض پر سود کی وصولی کے لیے اس میں کمی کی۔سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ واجبات کی عدم ادائیگی اور ناقص ڈیزائن کی وجہ سے ٹھیکیدار نے مغربی روٹ کے 7 حصوں میں سے دو پر حصوں (4 اور 5) پر کام روک دیا تھا۔ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ مکمل مغربی روٹ پر 60 فیصد سے زائد کام مکمل ہوگیا ہے لیکن مجموعی لاگت 110 ارب روپے کے بجائے 11 ارب 50 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔یہ بات بھی سامنے آئی کہ ٹھیکیدار نے سیکشن 4 پر 90 فیصد سے زائد کام مکمل کرلیا اور وہ مقررہ تاریخ سے پہلے سیکشن مکمل کرکے (منصوبے کی لاگت کا 5 فیصد) انعام جیتنا چاہتا تھا۔اس کے علاوہ 6 کلومیٹر طویل پہاڑی حصے میں ٹھیکیدار کو ‘ناقص’ ڈیزائن کی وجہ سے 18 فٹ گہرائی میں ایک پہاڑ کاٹنا پڑا جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی پتھر کاٹنے کے لیے رقم کی ادائیگی کے لیے تیار نہیں تھی۔

جس کے باعث وہ نامکمل منصوبہ چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔دریں اثنا جہاں تک سیکشن 5 پر کام کی صورتحال کا تعلق ہے تو وہاں بھی اسی طرح کی صورتحال ہے۔سینیٹ کمیٹی کو بتایا گیا کہ تقریباً ایک سال قبل منصوبے پر 60 فیصد کام مکمل ہوچکا تھا لیکن فنڈز کی عدم ادائیگی اور ‘سیاسی عزم’ کی کمی کے باعث منصوبہ غیرفعال ہے۔اس حوالے سے قائمہ کمیٹی کے رکن سینیٹر احمد خان کا کہنا تھا کہ کام میں تاخیر کی بڑی وجہ واجبات کی عدم ادائیگی ہے کیونکہ یہ منصوبہ دسمبر 2019 میں مکمل ہونا تھا۔انہوں نے یہ امکان ظاہر کیا کہ اگر ٹھیکیدار کو فنڈز جاری نہیں کیے جاتے تو منصوبہ مزی ایک یا دو سال کے لیے تاخیر کا شکار ہوسکتا ہے۔علاوہ ازیں وزارت خزانہ کے حکام نے کمیٹی کو یقین دہانی کروائی کہ وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر این ایچ اے اور دیگر وزارتوں کو ‘مزید فنڈز’ جاری کیے جارہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…