جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت میں توسیع کرتے وقت حکومت سے کونسی غلطی ہو ئی ؟ حامدمیر نے سوالیہ نشان اٹھا دیا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

بدنیتی سے سازش جنم لیتی ہے لیکن نااہلی سے بحران جنم لیتا ہے۔ دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت کے چیف آف آرمی اسٹاف کی مدت ملازمت کی تقرری کا نوٹیفکیشن ایک سادہ سا معاملہ تھا جس میں صرف قواعد و ضوابط کی پابندی کرنا تھی لیکن اس نوٹیفکیشن کا اجرا ایک بہت بڑے آئینی بحران میں تبدیل ہوگیا اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ اس آئینی بحران کی وجہ صرف اور صرف نااہلی تھی۔

اس آئینی بحران نے صرف عمران خان کی حکومت کو نہیں بلکہ ریاستِ پاکستان کو پوری دنیا میں ایک تماشا بنا دیا۔ کیا عمران خان اور ان کے وزرا اس بحران کی ذمہ داری بھی ماضی کی حکومتوں پر عائد کریں گے؟سپریم کورٹ نے 26نومبر کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے بارے میں کیس کی سماعت کے بعد جو آرڈر جاری کیا اس میں نوٹیفکیشن کے معاملے میں قانونی کمزوریوں اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی اور ان خامیوں کا جائزہ لیں تو صاف پتا چلتا ہے کہ وزیراعظم کے اردگرد نہ صرف قواعد و ضوابط سے نابلد سرکاری افسران بلکہ نااہل قانونی مشیروں کی بھرمار ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ اپنی مدت ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے تھے لیکن وزیراعظم عمران خان نے انہیں مدتِ ملازمت میں توسیع لینے پر آمادہ کیا۔سپریم کورٹ نے اپنے 26نومبر 2019ء کے آرڈرمیں لکھا کہ وزیراعظم نے 19اگست 2019ء کو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا حکم خود ہی جاری کر دیا حالانکہ آئین پاکستان کی دفعہ 243کے تحت یہ اختیار صدرِ مملکت کا تھا۔جب غلطی سامنے آئی تو اسی دن وزیراعظم کی طرف سے صدر کو ایک سمری بھجوائی گئی اور صدر نے اسی دن نوٹیفکیشن جاری کر دیا لیکن اس عمل میں یہ کمی رہ گئی کہ وفاقی کابینہ سے منظوری نہ لی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…