جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

اسلام آباد ہائیکورٹ نے  فردوس عاشق اعوان اور غلام سرور کے خلا ف توہین عدالت کیس کا تحریری فیصلہ  جاری کردیا،وزیراعظم کو بھی انتباہ جاری

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد ہائیکورٹ نے معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر غلام سرور کی توہین عدالت سے متعلق درخواست پر  تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ وفاقی وزراء نے اپنی غلط کا اعتراف کیا ہے، جسے عدالت نے قبول کیا،وزیراعظم اور حکومت کی ترجمان کو ایسی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے،یاد رکھنا چاہیے کہ اس ملک کی ایگزیکٹو عوام ہے،عوام کی منتخب کردہ حکومت ہی ایگزیکٹو ہے۔

پیر کو تفصیلی فیصلہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے تحریر کیا۔ تحریری فیصلہ سترہ صفحات پر مشتمل ہے۔ تحریری فیصلے میں وفاقی وزرا کی پریس کانفرنسز اور ٹی وی پروگرام کا ذکر بھی کیا گیا ہے فیصلے میں کہاگیاکہ معاون خصوصی اور وفاقی وزیر نے اپنی غلطی کا اعتراف کیا جس کو عدالت نے قبول کیا۔ فیصلہ کے مطابق معاون خصوصی اور وفاقی وزیر غلام سرور نے عدالت سے بلا مشروط معافی مانگی جسے عدالت نے منظور کرتی ہے۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ زیر سماعت مقدمات پر بیان بازی فیئر ٹرائل پر اثر انداز ہوتی ہے۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے چھٹی کے روز سماعت کی بات کی۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ معاون خصوصی نے اپنے بیان سے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی۔ فیصلے میں پاکستان تحریک انصاف کے دوہزار چودہ کے دھرنے کا بھی تذکرہ کیا گیا۔ فیصلے میں کہاگیاکہ عدالت نے دوہزار چودہ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں کو چھٹی کے روز ضمانت دی۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ عدالت نے دوہزار چودہ میں چھٹی کے دن دفتری اوقات کے بعد پی ٹی آئی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔ فیصلے کے مطابق دوہزار چودہ کے پی ٹی آئی کے دھرنے کے دوران عدالت نے عارف علوی اور اسد عمر کی چھٹی کے دن ضمانت منظور کی۔  فیصلے میں کہاگیاکہ وزیراعظم اور حکومت کی ترجمان کو ایسی بیان بازی سے پرہیز کرنا چاہیے۔ فیصلے میں کہاگیاکہ یاد رکھنا چاہیے کہ اس ملک کی ایگزیکٹو عوام ہے،عوام کی منتخب کردہ حکومت ہی ایگزیکٹو ہے۔ فیصلہ میں کہاگیاکہ عدالت وفاقی وزیر غلام سرور اور معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے رویے سے مطمئن ہے۔ فیصلے میں کہاگیاکہ عدالت معاون خصوصی ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے شوکاز نوٹس کو واپس لیتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…