جمعہ‬‮ ، 28 اگست‬‮ 2026 

توہین عدالت کیس!اسلام آباد ہائیکورٹ نے فردوس عاشق اعوان اور غلام سرور کو سرپرائز دیدیا

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آبادہائیکورٹ نے توہین عدالت کیس میں وزیراعظم کی معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کی معافی قبول کرتے ہوئے توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لے لیا۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے معاون خصوصی فردوس عاشق اعوان اور وفاقی وزیر غلام سرور خان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کی جس سلسلے میں فردوس عاشق اور غلام سرور عدالت میں پیش ہوئے۔دورانِ سماعت جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ آپ دونوں ذمہ دار پوزیشن پر ریاست کے بڑے عہدے پر وفاقی کابینہ کے ارکان بھی ہیں، میں ایک چیز کی تعریف کروں گا کہ انہوں نے کہا کہ ان کا بیان سیاسی تھا، تسلیم کرتا ہوں کہ عدلیہ سمیت کوئی بھی پر فیکٹ نہیں، صرف سیاست کے لیے لوگوں کا اداروں سے اعتماد اٹھانا نقصان دہ ہے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالت مطمئن تھی کہ آپ نے جو بھی کہا وہ توہین عدالت میں ضرور آتا ہے لیکن اس کے باوجود توہین عدالت کے شوکاز نوٹسز واپس لے رہی ہے۔جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کہ سیاست کے لیے اداروں کو متنازع بنانا درست نہیں،توقع رکھتا ہوں کہ آپ اداروں پر لوگوں کا اعتماد بڑھائیں گے اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سے گریز کریں گے، عدالتیں تنقید سے گھبراتی نہیں ہیں بلکہ خوش آمدید کرتی ہیں۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کا کہنا تھا کہ توقع ہے کہ آئندہ زیرسماعت مقدمات پر کوئی رائے نہیں دی جائے گی۔

عدالت کی جانب سے شوکاز نوٹس واپس لینے پر فردوس عاشق اعوان کے وکیل شاہ خاور نے کہا کہ توہین عدالت کا شوکاز نوٹس واپس لینے پر عدالت کا شکر گزار ہوں۔وا ضح رہے کہ فردوس عاشق اعوان پرعدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کا الزام تھا۔ معاون خصوصی نے اپنے تحریری جواب میں کہا کہ عدالت اور ججز سے متعلق 29 اکتوبر کی پریس کانفرنس میں اپنے ریمارکس غیر مشروط واپس لیتی ہوں۔

انہوں نے وضاحت دی کہ پریس کانفرنس کے دوران مجھ سے خاص پیرائے(ٹارگٹڈ) میں سوال کیا گیا، میری پریس کانفرنس صرف نواز شریف کے زیرالتوا کیس سے متعلق نہیں تھی۔جواب کے متن میں شامل ہے کہ’ میرا کہنے کا مقصد یہ نہیں تھا کہ عدالت نواز شریف کو خصوصی ریلیف دے رہی ہے، میں نے کہا کہ ہفتے کے روز سماعت سے زیرالتوا کیسز میں عام سائلین بھی مستفید ہو سکیں گے‘۔چوہدری غلام سرور خان نے نواز شریف کے حق میں عدالتی فیصلے کو ڈیل کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ عدالت نے وفاقی وزیر کو شو کاز نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ وفاقی وزیر غلام سرور خان نے عدالت سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقدمے کا سامنا نہیں کرنا چاہتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…