پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

واقعی 13 ماہ میں نیا پاکستان ممکن نہیں ہوتا۔۔لیکن۔۔اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں آپ حالات کو اتنا خراب کر دیں کہ لوگوں کو (پرانا) پاکستان اچھا لگنے لگے،کس وفاقی وزیر کے خاندان کی کمپنی نے بھی اپنا پراجیکٹ روک لیا، پلانٹس بند ہورہے ہیں،لوگ صبر کیوں نہیں کرتے؟جاوید چودھری کاتجزیہ‎

datetime 7  اکتوبر‬‮  2019 |

آج وزیراعظم عمران خان نے ملک کے نامور فلاحی ادارے سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے ساتھ مل کر اسلام آباد میں دستر خوان کا آغاز کیا‘ سیلانی ٹرسٹ ملک کا واحد ادارہ ہے جو پاکستان کے مختلف حصوں میں روزانہ 75 لاکھ روپے کا تیار کھانا تقسیم کرتا ہے‘ ملک میں اس وقت ان کے 160دستر خوان چل رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے‘

اس ادارے کے روح رواں مولانا بشیر فاروقی ہیں‘یہ لوگ اس ملک کا اصل سرمایہ‘ اصل شناخت ہیں‘ یہ لوگ ہیں جن کو جتنے بھی سیلوٹ کیے جائیں وہ کم ہوں گے‘ آج وزیراعظم نے اس تقریب میں عوام سے ایک شکوہ بھی کیا کہ 13 ماہ ہوئے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ وزیراعظم کا شکوہ بجا ہے‘ واقعی 13 ماہ میں نیا پاکستان ممکن نہیں ہوتا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں آپ حالات کو اتنا خراب کر دیں کہ لوگوں کو پرانا پاکستان اچھا لگنے لگے‘ آج ہی خبر آئی ہے گاڑیاں بنانے والی پاکستانی جاپانی کمپنی گندھارا نسان لمیٹڈ نے نئی گاڑیوں کی اسمبلنگ کے منصوبے کو روک دیا‘ کمپنی نے 1200 سی سی کی گاڑیاں بنانے کے لیے اگلے سال سے ساڑھے چھ ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنی تھی لیکن ملک کی ابتر معاشی حالت کی وجہ سے کمپنی نے یہ پراجیکٹ روک دیااور یہ انرجی اور پٹرولیم کے وفاقی وزیر عمر ایوب کے خاندان کی کمپنی ہے‘ اگر عمر ایوب کی خاندانی کمپنی کی یہ حالت ہو گئی ہے تو آپ باقی مارکیٹ کا اندازہ خود کر لیجیے‘ پاکستان میں آٹو موبائل کا پورا سیکٹر بیٹھ گیا ہے‘ گاڑیوں کی سیل 50 فیصد نیچے آ گئی ہے‘ کمپنیوں کے پورے پورے پلانٹس بند ہو رہے ہیں‘ ہونڈا کی سیل 33 فیصداور ٹویوٹا کی سیل 17فیصد نیچے آ گئی لیکن وزیراعظم کا فرمانا ہے لوگ صبر نہیں کرتے‘ لوگوں میں صبر کیوں نہیں ہے، اپوزیشن جماعتیں تھوڑی سی تاخیر کے بعد مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جڑ رہی ہیں، کل راہبر کمیٹی کا اجلاس ہے‘ کیا کل پوری اپوزیشن مولانا کے ساتھ اکٹھی ہو جائے گی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…