مولانا فضل الرحمن آزادی مارچ کیلئے تیار، حکومت نےبھی لنگوٹ کس لئے ،نمٹنے کیلئے کون کون سے آپشنز پر غور شرو ع کردیا؟جانئے

  اتوار‬‮ 22 ستمبر‬‮ 2019  |  11:54

اسلا م آ با د(آن لائن)پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے آئندہ ماہ اکتوبر میں اسلام آباد میں متوقع ’’ احتجاج ‘‘ سے نمٹنے کے لیے مختلف آپشنز پر حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے مشاورت شروع کردی۔یہ آپشنز مختلف نکات پر مشتمل ہیں، ان میں دھرنے کی اجازت دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ،مذاکرات سے مسئلہ کا حل اور قانون کے مطابق حالات سے نمٹنا شامل ہیں۔ تحریک انصاف کی اولین کوشش ہوگی کہ رابطوں کے سیاسی آپشن کے تحت جے یوآئی (ف ) کو اسلام آباد میں دھرنے سے روکا جائے۔اگر اسلام


آباد میں جے یوآئی (ف ) متوقع طور پر آزادی مارچ کیلیے حکومت سے اجازت حاصل کرنے کے لیے رجوع کرتی ہے تو قانون کے مطابق طے شدہ مقام صرف جلسہ ‘‘کی اجازت دینے پر غور کیا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت جے یوآئی (ف) کے متوقع احتجاج سے نمٹنے کے لیے اپنی حتمی حکمت عملی اس وقت کے سیاسی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے طے کرے گی۔پی ٹی آئی کے اہم ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت مرحلہ وار آئندہ ماہ اکتوبر میں جے یو آئی( ف) اور دیگر اپوزیشن کے اسلام آباد میں متوقع ’’احتجاج ‘‘ کے اعلان اور موجودہ سیاسی حالات کاجائزہ لیا جارہاہے، پی ٹی آئی کے حلقوں کا خیال ہے کہ جے یوآئی (ف) کے آزادی مارچ میں پیپلز پارٹی تو فی الحال شامل نہیں ہوگی اور (ن) لیگ رسمی طور پر اس میں شرکت کرسکتی ہے، اس لیے جے یوآئی (ف ) کی متوقع احتجاجی حکمت عملی سے وفاقی حکومت کو کوئی سیاسی خطرہ نہیں ہے، پی ٹی آئی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپوزیشن کے ماضی میں ہونے والے کسی ’’پر امن احتجاج ‘‘میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالی ہے۔ آئندہ بھی وفاقی حکومت اپوزیشن کے متوقع کسی ممکنہ پرامن احتجاج میں کوئی روکاوٹ ڈالنے کا ارادہ نہیں رکھتی ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت میں اس آپشن کا بھی جائزہ لے گی کہ جے یو آئی (ف) کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے کوئی ’’سیاسی راستہ ‘‘نکالا جائے، اس سیاسی آپشن کے تحت ’’رابطہ یامذاکرات ‘‘ کیے جاسکتے ہیں، حکومت کی جانب سے اپوزیشن سے یہ ممکنہ سیاسی رابطہ یا مذاکرات کسی سمجھوتہ یا ڈیل کے لیے نہیں بلکہ صرف احتجاج کو محدود رکھنے کے لیے کیے جاسکتے ہیں۔ اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہوسکتا ہے کہ جے یو آئی (ف) اور دیگر اپوزیشن اسلام آباد میں صرف مقررہ مقام پر احتجاجی جلسہ کرکے واپس چلی جائیں۔اس آپشن کا استعمال وفاقی حکومت اپوزیشن کی سیاسی حکمت عملی مدنظر رکھتے ہوئے استعمال کرے گی اور حزب اختلاف نے سیاسی لچک کا مظاہرہ کیا تو سیاسی امور پر بات چیت کے لیے حکمراں جماعت کوئی کمیٹی قائم کرسکتی ہے، اس ممکنہ بات چیت میں اپوزیشن رہنماؤں کی گرفتاریوں اور احتساب کے معاملے پر کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ وفاقی حکومت ’’ احتساب ‘‘ کی اپنی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کرے گی،کرپشن میں ملوث عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی، پی ٹی آئی اپوزیشن کے آئندہ متوقع احتجاج کے حوالے سے ابتدائی سیاسی حالات کا جائزہ لے رہی ہے، اس حوالے سے حکمت عملی مرتب کرنے کے لیے مختلف آپشنز زیرغور ہیں۔ان آپشنز میں غور کیا جارہاہے کہ جے یوآئی (ف) کی جانب سے پرامن احتجاج کے انعقاد کی تحریری یقین دہانی کے بعد مقررہ مقام پر جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے ۔ جے یو آئی (ف ) کو اسلام آباد میں ریڈ زون یا حساس مقام پر دھرنے کی اجازت نہ دی جائے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر جے یوآئی (ف) کے ممکنہ آزادی مارچ یا دھرنے کی وجہ سے امن وامان کی صورتحال خراب ہوتی ہے تو حکومت کی جانب سے قانون کے مطابق گرفتاریوں ،نظر بندی اور دیگر آپشنز پر حالات کو دیکھتے ہوئے عمل کیا جاسکتا ہے۔اس حوالے سے رابطہ کرنے پر پی ٹی ا?ئی کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیرآبی وسائل فیصل واوڈا نے بتایا کہ اسلام آباد میں اپوزیشن کا کوئی لاک ڈاؤن نہیں ہونے والا ہے اور نہ وہ ایسا کریں گے، یہ لاک ڈاؤن کس چیز کا کریں گے، یہ صرف اپنی چوری اور کرپشن بچانے کے لیے لاک ڈاؤن کرنے کی باتیں کررہے ہیں، اس احتجاج میں پیپلز پارٹی اور نواز شریف شامل نہیں ہوں گے، یہ لاک ڈاؤن کی باتیں اس لیے کرتے ہیں تاکہ حکومت این آر او دے ، یہ کتنے ہی لاک ڈاؤن یا احتجاج کی بات کرلیں حکومت کوئی این آر او نہیں دے گی ، جب لاک ڈؤان ہوگا تو اس وقت جواب دیا جائے گا لیکن فی الحال تو ایسا ہورہا ہے۔

موضوعات:

loading...