جمعرات‬‮ ، 27 اگست‬‮ 2026 

سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کی جانب بڑا قدم، سول کورٹ سے لیکر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ کتنے سال تک کرنے کی قانونی شرط لائی جارہی ہے؟جانئے

datetime 15  ستمبر‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)وزیر اعظم معاون خصوصی برائے اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنیکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے، سستے اور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ اور وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے۔

سمن کے اجراء ، وصولی اور عدالتی حاضری سے لے کر شہادتیں ریکارڈ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا رہا ہے، لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل کی منظوری سے فوری انصاف کی فراہمی کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔ اتوار کو ٹوئٹر پراپنے بیان میں فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ سستے اور فوری انصاف کی فراہمی پاکستان تحریک انصاف کا بنیادی نظریہ اور وزیراعظم عمران خان کا مشن ہے۔ انہوںنے کہاکہ سمن کے اجراء ، وصولی اور عدالتی حاضری سے لے کر شہادتیں ریکارڈ کے عمل کو جدید ٹیکنالوجی سے منسلک کیا جا رہا ہے۔معاون خصوصی نے کہا کہ سول پروسیجر کوڈ کا ترمیمی بل حقیقی تبدیلی کی طرف بڑھتے موجودہ حکومت کے لیے مثبت قدم ہے، ایک نسل مقدمہ درج کرتی اور تیسری نسل تک پہنچ کر اس کا فیصلہ ہوتا تھا۔ سول کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک دیوانی مقدمات کا فیصلہ دو سال تک کرنیکی قانونی شرط لاگو کی جارہی ہے۔فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ اسلام میں خواتین کودستیاب وراثتی حق معاشرتی اورقانونی پیچیدگیوں کی نذر ہو چکا تھاریاست مدینہ کی طرز پر تشکیل دیے جانے والے معاشرے کیلئے پرعزم وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کی روشنی میں تشکیل پانے والا یہ قانون خواتین کو جائیداد میں اپنے حصے کے حصول کو یقینی بنانے کا باعث بنے گا۔

معاون خصوصی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی حکومت کے کندھوں پر ان بے گناہ اور معمولی جرائم میں ملوث قیدیوں کا بوجھ اٹھا لیا ہے جو کئی دہائیوں سے جیلوں میں قید تھے۔ خصوصی طور پر وہ خواتین، بچے اور دیگر مستحق و نادار قیدی جو قانونی مدد کی سہولت دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اپنے مقدمات کی پیروی سے قاصر تھے۔ لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی بل کی منظوری سے انہیں فوری انصاف کی فراہمی کا خواب حقیقت میں بدل جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…