بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پورا سندھ پوری طرح سے کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے ،ایڈز نے برا حال کردیا بجٹ کا ایک پیسہ بھی خرچ نہیں ہوا ، سپریم کورٹ سندھ حکومت پر شدید برہم

datetime 20  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس گلزار احمد نے ایک کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دئیے کہ پورا سندھ پوری طرح سے کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے اور بجٹ کا ایک پیسہ بھی صوبے میں خرچ نہیں ہوا،لاڑکانہ میں ایچ آئی وی نے برا حال کر دیا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

جمعرات کو سپریم کورٹ میں سکھر پریس کلب اراضی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی ۔ جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ صوبہ سندھ پوری طرح سے کرپشن میں ڈوبا ہوا ہے، بجٹ کا ایک پیسہ بھی سندھ میں خرچ نہیں ہوتا۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ لاڑکانہ میں ایچ آئی وی نے برا حال کر دیا ہے ،کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ اب یہ اتنا بڑھے گا کہ پورا لاڑکانہ اس کی لپیٹ میں آجائیگا۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ دنیا کا کوئی ایسا شہر نہیں جہاں پر 50 ڈگری کے باوجود کثر المنزلہ عمارتیں موجود ہوں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ سکھر کے گرم شہر میں کثیر المنزلہ عمارتیں تو بنا دی گئیں لیکن سہولیات نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ لوگوں کو پانی میسر نہیں اور رات کو بجلی کے بغیر سوتے ہیں، بنیادی ضروریات سے محروم لوگ تشدد پسندی کی طرف مائل ہوتے ہیں اور کرائم ریٹ بڑھتا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ میئر سکھر آپ بھی جاگ جائیں۔ میئر سکھر نے کہاکہ ہم نے ماسٹر مرتب کیا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ کا ماسٹر پلان جائے،،جہاں بھی جائے،آپ کے ماسٹر پلان کی ایسی کی تیسی۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ آپ سب لوگ سسٹم کا حصہ ہیں اور جانتے ہیں کہ سسٹم کیا ہے، صحافی بھی آجاتے ہیں آپ کو پتہ آپ کیا کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ سکھر پریس کلب والے کیا کرتے ہیں اپنی مرضی کی خبریں چھاپتے ہیں، سکھر پریس کلب والوں کو کوئی پوچھنے والا ہی نہیں ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ سکھر پریس کلب والے اپنے پسند کے لوگوں کی خبریں لگاتے ہیں،آپ صحافیوں نے چار لوگوں کو پکڑ رکھا ہے صرف ان کے بارے میں خبریں لگاتے ہیں۔جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ صحافی کبھی غریب اور حقدار کی خبر نہیں چھاپیں گے کیونکہ انہیں مالک ہی نکال دیگا۔ وکیل سکھر انتظامیہ نے کہاکہ ہمیں جگہ کے تعین اور قابل قبول حل نکالنے کے لیے 15 دن کا وقت دے دیں۔ جسٹس گلزار احمد نے کہاکہ ہم پہلے ہی بہت وقت دے چکے ہیں۔ بعد ازاں عدالت نے سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کر دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…