اسلام آبادمیں قائم امریکی سفارتخانے کی مشکوک سرگرمیاں، مبینہ طور پر اپنے سفارتکار کے نام پر گاڑی درآمد ، ملی بھگت سے پہلے وزارت خارجہ سے ریکارڈ ،بعد ازا ں گاڑی ہی غائب کردی

  پیر‬‮ 27 مئی‬‮‬‮ 2019  |  10:20

اسلام آباد(آن لائن)اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے کی مشکوک سرگرمیاں،امریکی سفارتخانے نے مبینہ طور پر اپنے سفارتکار کے نام پر گاڑی درآمد کرنے کے بعد ملی بھگت سے وزارت خارجہ سے گاڑی کا ریکارڈ جبکہ بعد ازا ں گاڑی بھی غائب کردی۔گاڑی کہاں ہے، کس کے زیر استعمال ہے اور درآمد کی گئی گاڑی میں کیا کیا موجود تھا ۔ امریکی سفارتخانے کا کسی بھی سوال کا جواب دینے سے انکار۔دستیاب دستاویزات کے مطابق سال 2015میں امریکی سفارتخانے کے ملازم جیک ایلن موٹینسن کے نام پر ایک ٹویوٹا کرائون 2004ماڈل گاڑی پاکستان درآمد کی جسے امریکی سفارتخانے کے ایک ڈرائیور


نے اسلام آباد میں کارگو دفتر سے وصول کیا۔اس سے قبل امریکی سفارتخانے کی جانب سے فروری 2015میں وزارت خارجہ کوایک لیٹر لکھا گیا جس میں سفارتخانے کے نئے آنے والے ملازم جیک ایلن مورٹینسن کے نام پر مبینہ گاڑی کی درآمد کی اجازت طلب کی گئی تھی ،جبکہ سبکدوش ہونے والے ڈیوڈ ایش فورڈکے لئے ان کی گاڑی کو واپس لیجانے کی اجازت طلب کی گئی تھی۔ ذرائع کے مطابق درآمد شدہ گاڑی کو چیک بھی نہیں کیا گیااور نا ہی وزارت خارجہ نے امریکی سفارتخانے سے پوچھنا مناسب سمجھا کہ2015میں امریکی سفارتخانہ کیوں 2004ماڈل کی پرانی کارپاکستان منگوانا کرنا چاہتا ہے اور اس کے پیچھے کیا مقاصد ہیں۔ گاڑی کے پاکستان آنے کے بعدجیک ایلن مورٹینسن نے گاڑی کو ایک بار بھی استعمال نہیں کیااور کچھ عرصہ بعد سفارتکار جیک ایلن مورٹینسن اپنی مدت پوری کر کے واپس امریکہ چلے گئے ۔ قانون کے مطابق وزارت خارجہ کا پروٹوکول ڈیپارٹمنٹ گاڑی کی درآمدگی کی اجازت دیتا ہے اور گاڑی کی درآمد گی کے بعد اس کی رجسٹریشن کرتا ہے ۔ جبکہ ذرائع کے مطابق امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ اوروزارت خارجہ کے حکام کی ملی بھگت سے مبینہ گاڑی کی رجسٹریشن نہیں کروائی گئی اور نا ہی سفارتکار مورٹینسن سے ان کی واپسی کے وقت مبینہ گاڑی کے بارے میں سوالات پوچھے گئے۔ قانون کے مطابق ایسی گاڑی کو فروخت یا ضائع کرنے یا اسے اپنے ساتھ واپس لے جانے کے لئے متعلقہ سفارتکار کو وزارت خارجہ سے اجازت درکار ہوتی ہے۔ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ مبینہ گاڑی کو فروخت، ضائع یا اسے واپس امریکہ نہیں لے جایا گیا اور نہ ہی ایسا کوئی ریکارڈ وزارت خارجہ کے پاس موجود ہے۔ گاڑی وصول کرنے والے امریکی سفارتخانے کے ڈرائیور کے بیان کے مطابق وہ شپنگ ڈیپارٹمنٹ کے سپر وائزرکی ہدایت پرگاڑی ایک ورکشاپ میں چھوڑ آیا تھااور تاحال اس گاڑی کے بارے میں کچھ نہیں پتا۔ اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کا مؤقف جاننے کے لئے جب رابطہ کیا گیا توامریکی سفارتخانے کے ترجمان رچرڈ سنیلسائرنے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ آپ اس سلسلے میں حکومت پاکستان سے رابطہ کریں۔ جبکہ ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے بھی اس بارے کسی بھی سوال کا جواب نہیں دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی حکام کومبینہ گاڑی کی لوکیشن کے بارے میں تاحال کوئی علم نہیں اور امریکی سفارتخانے کے علاوہ کوئی نہیں جانتا کہ یہ گاڑی کہاں ہے اور کون استعمال کر رہا ہے۔ اس کیس میں ملوث امریکی سفارتخانے کے شپنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک ملازم کوامریکی سفارتخانے نے اسے امریکی شہریت دیکر امریکہ بھجوا دیا ہے۔جبکہ دیگرچار ملازمین کو آنے والے دنوں میں ایسی ہی مراعات سے نوازے جانے کی اطلاعات بھی ہیں۔واضح رہے اس سے قبل امریکی سفارتخانہ متعدد گاڑیاں پاکستان درآمد کر چکا ہے مگر ایسی کتنی گاڑیاں اب تک غائب ہو چکی ہیں اس بارے میں کوئی ریکارڈ وزارت خارجہ کے پاس موجود نہیں جوکہ پاکستان کی سلامتی کے لئے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔

موضوعات:

loading...